نیپال، تباہ کن سیلاب سے 162ہلاکتوں کی تصدیق،سینکڑوں تاحال لاپتہ
نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اب تک کم از کم 162 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
تبت کے ضلع گیرونگ میں مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 558 ہو گئی ہے۔ لاپتہ افراد میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ گیرونگ کی سرحد چین اور نیپال کے درمیان سیاحوں اور دیگر آمدورفت کے لیے مرکزی گزرگاہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا نے اس سرحدی علاقے میں مٹی کے تودے گرنے کے فوراً بعد ’’بڑے پیمانے پر جانی نقصان‘‘ کی اطلاعات دی تھیں۔
نیپالی پولیس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 162 ہو گئی ہے۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 64 افراد کی لاشیں ضلع چتوان کے نشیبی علاقوں سے اور 26 افراد کی لاشیں نوال پراسی ایسٹ سے ملی ہیں۔ بیان کے مطابق لاپتہ افراد میں 28 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
فضا سے لی گئی تصاویر میں نیپال کے ضلع رسووا میں واقع بھوٹے کوشی دریا کے علاقے میں گھروں، سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے بڑے پیمانے پر نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔
نیپال کے وزیرِ اعظم بیلندر شاہ کے مطابق پورا ملک صدمے میں ہے۔ بعض زندہ بچ جانے والوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے اہلِ خانہ کو سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا۔
متاثرہ علاقوں میں تقریباً 8 ٹن امدادی سامان روانہ کیا جا چکا ہے۔ امریکا، چین، یورپی یونین اور بھارت نے امداد فراہم کرنے یا امدادی سامان بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔
حکام نے ابتدا میں خیال ظاہر کیا تھا کہ اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ زلزلہ تھا، تاہم امریکی جیولوجیکل سروے کے تازہ ترین تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا اور ’’گلیشیئر کے منہدم ہونے اور مٹی و پتھروں کے بڑے بہاؤ‘‘ نے اس زلزلے جیسی سرگرمی کو جنم دیا۔
نیپالی فوج نے متاثرہ علاقوں میں زمینی اور فضائی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے 2,000 فوجی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔
ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجارام باسنیٹ نے بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں، خصوصاً رسووا اور نوواکوٹ اضلاع میں تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فوج اب تک سیلاب میں پھنسے 97 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ان میں سے 3 افراد تریشولی اے پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے ہوئے کارکن تھے۔
نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس نے بھی تلاش کی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنے اہلکار تعینات کیے ہیں۔