World

نیپال: زلزلہ یا تباہی کا نیا روپ؟ 5.2 شدت کے جھٹکے کی خوفناک حقیقت سامنے آگئی

نیپال: زلزلہ یا تباہی کا نیا روپ؟ 5.2 شدت کے جھٹکے کی خوفناک حقیقت سامنے آگئی
۱۱ گھنٹے پہلے

نیپال اور تبت کے سرحدی پہاڑوں میں 5,200 میٹر کی بلندی سے گلیشیئر کا ایک بڑا حصہ ٹوٹ کر ندی میں گرنے سے پیدا ہونے والے کیچڑ اور ملبے کے تند و تیز ریلے نے 180 سے زیادہ افراد کی جان لے لی۔

 

زلزلہ پیما آلات پر 5.2 شدت کے ’’زلزلے‘‘ کے طور پر ریکارڈ ہونے والے اس حادثے نے لمحوں میں سرحدی چوکیوں، پلوں اور عمارتوں کو تباہ کر دیا۔

 

ماہرین کے مطابق سائنسی اور سیٹلائٹ شواہد نے تصدیق کی ہے کہ یہ زلزلہ نہیں بلکہ برفانی تودے کے ٹوٹنے سے بننے والی کیچڑ کی ہولناک لہر تھی۔

 

سائنسی اور سیٹلائٹ شواہد نے تصدیق کی ہے کہ یہ زلزلہ نہیں بلکہ برفانی تودے کے ٹوٹنے سے بننے والی کیچڑ کی ہولناک لہر تھی۔

 

مقامی وقت کے مطابق صبح 8:37 بجے، جبکہ پاکستان کے وقت کے مطابق صبح 7:52 بجے، جب زلزلہ پیما آلات پر 5.2 شدت کے جھٹکے ریکارڈ ہوئے تو ابتدا میں اسے عام زلزلہ ہی سمجھا گیا۔

 

تاہم امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے گہرے تجزیے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ اس وقت علاقے میں کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا بلکہ یہ گلیشیئر کے کھسکاؤ اور ملبے کے شدید بہاؤ کا اثر تھا، جس نے زلزلے جیسا زبردست جھٹکا پیدا کیا۔

 

نیوزی لینڈ کے ’’جی این ایس سائنس‘‘ کے چیف سائنٹسٹ سیمو کوکس کے مطابق گرنے والے برفانی تودے کا حجم 5 لاکھ سے کئی کروڑ کیوبک میٹر تک ہو سکتا ہے۔

 

ہزاروں میٹر کی بلندی سے گرنے والے اس برفانی تودے نے وادی میں نیچے آتے ہوئے راستے سے پتھر، مٹی اور درخت اپنے اندر سمیٹ لیے اور ایک خوفناک سیلابی ریلے کی شکل اختیار کر لی۔

 

تباہی کے ابتدائی سیکنڈز کے دوران کیمرے میں محفوظ ہونے والے المناک سی سی ٹی وی مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیچڑ اور ملبے کا ایک دیوہیکل ریلا سرحدی چوکی پر آن پڑا اور لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے بدحواسی میں بھاگتے رہے۔

 

سرحدی چوکی کو لپیٹ میں لینے کے بعد یہ سیلابی ریلا نیپال کی حدود میں داخل ہوا اور یکے بعد دیگرے دیہاتوں، پلوں اور عمارتوں کو بہا لے گیا۔

 

نیپالی حکام کے مطابق حادثے کے فوراً بعد پانی کے مانیٹرنگ اسٹیشنز کا رابطہ منقطع ہونا شروع ہو گیا۔ تبت کی سرحد کے قریب واقع علاقے کالیکھولا میں دوپہر 2:14 بجے پانی کی سطح 12.3 میٹر تک بلند ریکارڈ کی گئی تھی۔

 

ابتدائی طور پر ماہرین کا خیال تھا کہ یہ حادثہ ’’گلوف‘‘ یعنی گلیشیئر کی جھیل کے پھٹنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ گلوف اس وقت رونما ہوتا ہے جب برف یا ملبے کی کمزور دیوار کے پیچھے جمع پانی اچانک بند توڑ کر باہر نکل آتا ہے۔

 

آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف دی سن شائن کوسٹ کے ماہرِ گلیشیولوجی ایڈریئن میک کیلم کا کہنا ہے کہ ’’اتنی بڑی مقدار میں پانی کا اچانک وادی میں بہنا بتاتا ہے کہ کوئی جمع شدہ پانی آزاد ہوا ہے۔‘‘

 

لیکن دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ واقعے کے مقام کے قریب کسی جھیل کے شواہد نہیں ملے۔ ان کا نظریہ ہے کہ گلیشیئر کے نیچے جمع شدہ پانی اس تودے کے ساتھ نیچے آ گرا، یا پھر گرنے والی برف نے ندی کا راستہ عارضی طور پر روک دیا تھا، جس کے ٹوٹنے سے یہ تباہی پھیلی۔

 

مون سون کی بارشوں اور گرمیوں میں پگھلتی برف کی وجہ سے ندیوں میں پانی کا بہاؤ پہلے ہی کافی تیز تھا۔

 

نیپالی حکام کو صبح 9:00 بجے کے قریب سیلاب کی پہلی اطلاع ملی، جس کے بعد انہوں نے بھوٹے کوشی ندی کے اردگرد رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے پیغامات جاری کیے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ پیغامات بروقت کتنے لوگوں تک پہنچ سکے۔

ٹیکساس یونیورسٹی کے ہائیڈرولوجسٹ حاتم شریف کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں لوگوں کے پاس سنبھلنے کا وقت نہیں ہوتا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ’’پیدل بھاگنا یا گاڑی کے ذریعے نکلنے کی کوشش کرنا بے سود ہے کیونکہ یہ کیچڑ اور پانی اتنی تیز رفتاری سے حرکت کرتا ہے جیسے ’لیکوڈ کنکریٹ‘ بہہ رہا ہو۔‘‘

 

ان کا اندازہ ہے کہ بچاؤ کی واحد صورت یہی ہوتی ہے کہ انسان فوراً کم از کم 20 فٹ، یعنی 6 میٹر اونچی پہاڑی یا جگہ پر چڑھ جائے۔

 

یہ سانحہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کرۂ ارض پر بڑھتی ہوئی حرارت گلیشیئرز کو تیزی سے پگھلا رہی ہے۔ اگرچہ کسی ایک انفرادی واقعے کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے جوڑنا سائنسی طور پر پیچیدہ ہوتا ہے، لیکن ماہرینِ ماحولیات کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ قدیم برفانی ندیوں کے لیے ایک مسلسل خطرہ بن چکا ہے۔

 

وکٹوریہ یونیورسٹی آف ویلنگٹن کی گلیشیولوجسٹ لارین وارگو کے مطابق ماہرین حادثے سے پہلے اور بعد کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرکے یہ معلوم کر رہے ہیں کہ پہاڑ کا کتنا حصہ غائب ہوا ہے۔

 

ان کے مطابق ایسے واقعات کے خطرے کو کم کرنے کا واحد حل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرکے زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو قابو میں لانا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں