Entertainment

شوبز شخصیات کا پمز سانحے پر شدید اظہاربرہمی،وزیرِ صحت کے رویے کی مذمت

شوبز شخصیات کا پمز سانحے پر شدید اظہاربرہمی،وزیرِ صحت کے رویے کی مذمت
۱ دن پہلے

پمز آتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر شوبز شخصیات نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

 

اداکارہ ماہرہ خان نے کہا کہ پاکستان میں لوگ روزانہ غفلت، طاقت، صنفی تعصب اور خاموشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ملک کو مزید کتنی جانوں کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑے گا اور حالات کب تک ایسے ہی رہیں گے؟

 

اداکارہ نے پمز میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کے ساتھ ساتھ ملک میں پیش آنے والے دیگر افسوسناک واقعات کا بھی حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ذمہ دار کون ہے، اس سے کیا فرق پڑتا ہے جب آج تک کسی کو جواب دہ نہیں ٹھہرایا گیا؟

 

دوسری جانب سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی پمز سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو ناقابلِ تصور قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کے مبینہ رویے پر بھی تنقید کی۔

 

بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ متاثرہ افراد پہلے ہی اپنے بچوں کے نقصان کے باعث شدید صدمے میں ہیں، ایسے میں ان کی شکایات سننے کے بجائے انہیں ڈانٹنا مناسب رویہ نہیں۔ انہوں نے وزیرِ صحت پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور عوام کی شکایات سنیں۔

 

سینئر اداکار خالد انعم نے بھی حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی توقع کرنا ’’بھینس کے آگے بین بجانے‘‘ کے مترادف ہے۔

 

انہوں نے معروف کالم نگار اردشیر کاوس جی کا قول دہراتے ہوئے کہا کہ بے شرم کو شرمندہ نہیں کیا جا سکتا۔

 

خالد انعم نے خدشہ ظاہر کیا کہ سانحے کے بعد کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، تحقیقات ہوں گی، رپورٹس جاری ہوں گی اور اعلانات کیے جائیں گے، تاہم عملی طور پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی۔

 

نیمل خاور نے بھی پمز میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’مزید کتنی ماؤں کو اپنے بچے کھونا ہوں گے؟ مزید کتنی بچیوں کو تکلیف برداشت کرنا پڑے گی کہ یہ سب کچھ رک جائے؟‘‘

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں