زچگی آپریشن کے بعد بچہ غائب کرنے کاالزام،خاتون حاملہ ہی نہیں تھی،ہسپتال انتظامیہ
کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع ایک نجی ہسپتال، ہمدرد ہسپتال، میں زچگی کے آپریشن کے بعد اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ہسپتال انتظامیہ نے نومولود بچہ غائب کردیا، تاہم ہسپتال کے ڈاکٹرز کی جانب سے یہ انتہائی حیران کن اور متنازع دعویٰ کیا گیا ہے کہ خاتون حاملہ ہی نہیں تھیں۔
اہل خانہ کا موقف اور الزامات
خاتون کے شوہر راشد اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ماہ سے اپنی 24 سالہ اہلیہ کا باقاعدگی سے اسی ہسپتال میں چیک اپ کروا رہے تھے۔ ان کے پاس الٹراساؤنڈ کی وہ رپورٹس بھی موجود ہیں جن میں 38 ہفتوں کا حمل اور بچے کا وزن اور سائز تک بتایا گیا تھا۔
آپریشن اور مٹھائی کا مطالبہ
اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 27 اگست 2026 کو خاتون کو زچگی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے ان کا سی سیکشن آپریشن کیا۔ اہل خانہ کے مطابق آپریشن کے فوراً بعد ہسپتال کے عملے نے انہیں مبارکباد دی اور مٹھائی کی فرمائش بھی کی۔
بچہ غائب کرنے کا الزام
اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ جب خاتون کے شوہر نے بچے کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹرز نے اچانک مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی اہلیہ حاملہ ہی نہیں تھیں بلکہ انہیں صرف گیس کا مسئلہ تھا۔
شوہر نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹرز نے آپریشن کے بعد خاتون کو ٹانکے لگائے بغیر چھوڑ دیا اور بچہ غائب کرکے وہاں سے چلے گئے، جس کے بعد اہل خانہ خاتون کو تشویشناک حالت میں دوسرے ہسپتال لے گئے۔
ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹر کا موقف
ہسپتال کے شعبہ گائنی کی سربراہ ڈاکٹر انجم آرا حسن نے ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے اہل خانہ کے الزامات کو یکسر مسترد کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ لیبارٹری ٹیسٹ اور طبی معائنے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ خاتون داخلے کے وقت حاملہ نہیں تھیں۔
جعلی رپورٹس کا دعویٰ
ڈاکٹر انجم آرا حسن کا کہنا ہے کہ خاتون فروری میں پہلی مرتبہ ہسپتال آئیں تو الٹراساؤنڈ میں حمل ظاہر نہیں ہوا تھا۔ بعد میں وہ جو 28 یا 38 ہفتوں کی رپورٹس لے کر آئیں، وہ جعلی تھیں اور ان دستاویزات پر موجود لکھائی ہسپتال کے ڈاکٹروں کی لکھائی سے مطابقت نہیں رکھتی۔
شناخت کا شبہ
ہسپتال انتظامیہ نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا ہے کہ جس خاتون کے نام پر کارڈ بنا ہوا تھا، آپریشن کے لیے آنے والی خاتون ممکنہ طور پر وہ نہیں تھیں بلکہ کوئی اور خاتون تھیں۔
قانونی کارروائی، ہسپتال میں توڑ پھوڑ اور احتجاج
ڈاکٹرز کے اس متنازع دعوے پر اہل خانہ اور رشتہ دار مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ہسپتال میں شدید ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی، جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔
تحقیقاتی کمیٹی
ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے 5 رکنی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ پولیس اس وقت ہسپتال کا میڈیکل ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے کر تفتیش کر رہی ہے۔
میڈیکل بورڈ کی تفتیش
دوسری جانب سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن اور ایک خصوصی میڈیکل بورڈ بھی اس کیس میں مبینہ طبی غفلت اور دستاویزات کی جانچ کر رہا ہے، کیونکہ ہسپتال کی بعض ابتدائی دستاویزات میں نومولود کی زندہ پیدائش کا کالم تو بھرا ہوا ہے مگر جنس تحریر نہیں ہے، جو ہسپتال انتظامیہ کے اپنے بیانات میں تضاد سے متعلق سوالات اٹھاتا ہے۔