نیپال،سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 616 ہوگئی، 2000 تاحال لاپتہ
نیپال میں بدترین سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 616 ہوگئی ہے، جبکہ تقریباً 2000 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ چین نے بھی تبت میں 7 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے، جبکہ 554 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
یورپی یونین، کینیڈا اور امریکا سمیت کئی ممالک نے نیپال کو امدادی سامان یا مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کے مطابق 10 ہزار سے زیادہ خاندانوں کو خوراک اور صاف پینے کے پانی کی فوری ضرورت ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال سے صحافیوں نے سوال کیا کہ اس بحران کے دوران چین کی جانب سے بروقت معلومات کیوں فراہم نہیں کی گئیں، جس پر انہوں نے کہا کہ واقعے کی نوعیت ایسی تھی کہ ممکن ہے ابتدائی مرحلے میں خود چینی حکام کے پاس بھی مکمل اور واضح معلومات موجود نہ ہوں۔
شیشیر خانال نے کہا کہ ضروری معلومات اور تفصیلات اب چین کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں اور واقعے کے بعد سے نیپال مسلسل چینی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نہ صرف گلیشیئر ٹوٹنے کے مقام پر بننے والی جھیل کی نگرانی کر رہا ہے بلکہ ممکنہ خطرات سے متعلق معلومات بھی نیپال کو فراہم کر رہا ہے۔
ادھر بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ نیپال میں آنے والے سیلاب کے بعد 320 بھارتی شہری تاحال لاپتہ ہیں، جبکہ اب تک 84 بھارتی شہریوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ ان میں تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے 21 افراد بھی شامل ہیں جو جمعے کو بھارت واپس پہنچے، جبکہ تریشولی-ون منصوبے پر کام کرنے والے 63 افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق مزید 149 شہری آج چین سے بحفاظت نیپال پہنچے ہیں، جبکہ تقریباً 400 بھارتی شہری چین میں محفوظ ہیں اور انہیں وہاں سے نکالنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
دوسری جانب نیپال میں سیلاب کے دوران بہہ جانے والی ایک بینک سیف ملنے کے بعد پولیس نے اسے توڑ کر رقم نکالنے کے الزام میں 29 افراد کو حراست میں لے لیا۔ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی یہ سیف راسووا کے بھوٹیکوشی علاقے سے بہتی ہوئی دھادنگ کے گالچھھی دیہی میونسپلٹی کے قریب دریائے تریشولی سے ملی۔
پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ مقامی افراد نے سیف توڑ کر اس میں موجود رقم نکال لی ہے۔ ابتدائی تلاشی کے دوران 29 افراد کے قبضے سے 92 لاکھ 68 ہزار 505 نیپالی روپے برآمد ہوئے، جو پاکستانی تقریباً 57 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ زیرِ حراست افراد کی عمریں 19 سے 49 سال کے درمیان ہیں۔
سیلاب کے بعد لوٹ مار کا ایک اور افسوسناک واقعہ بھی سامنے آیا، جہاں دریائے ناراینی میں بہہ جانے والی ایک خاتون کی لاش سے سونے کی بالیاں اتارنے کے الزام میں 2 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔