امام کی مشکوک انجری،بہانے بازی کے الزامات، پاکستان واپس بھیجنے ،تحقیقات کا فیصلہ
لارڈز ٹیسٹ میں امام الحق کی مشکوک انجری اور اس حوالے سے سابق سلیکٹرز اور کرکٹرز کی جانب سے ٹیسٹ اوپنر کی انجری کو مبینہ طور پر جعلی قرار دیے جانے کے دعووں کے بعد امام الحق کو لندن سے پہلی دستیاب فلائٹ کے ذریعے پاکستان واپس بھیجنے اور ان کی پنڈلی کی انجری کی اعلیٰ سطح تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امام الحق نے لارڈز ٹیسٹ کے پہلے دن پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی تھی۔ انہوں نے پاکستان کی پہلی اننگز کے بعد دوسری اننگز میں بھی بلے بازی نہیں کی۔ ان کی انجری کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ انہیں کوئی سنگین انجری نہیں اور انہوں نے اپنی تکلیف کے بارے میں غلط بیانی کی۔
سابق سلیکٹر محمد وسیم نے دعویٰ کیا ہے کہ امام الحق اس سے قبل بھی اس نوعیت کی مبینہ جعلی انجریز کے بہانے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2022 کے ملتان ٹیسٹ میں بھی ٹیم کے فزیو نے انہیں پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ امام الحق جلد انجری کا بہانہ بنا سکتے ہیں اور پھر میچ کے دوران بالکل ایسا ہی ہوا۔
محمد وسیم نے کہا کہ امام الحق میچ میں پہلی گیند کھیلنے سے بچنے کے لیے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امام الحق کریز پر ڈرتے ڈرتے آئے اور خود پہلی گیند کھیلنے کے بجائے ڈیبیو کرنے والے نوجوان بیٹر اذان اویس کو اسٹرائیک لینے کے لیے آگے کردیا۔ محمد وسیم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امام الحق ماضی میں بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف بھی ایسا کر چکے ہیں۔
امام الحق نے پنڈلی میں شدید تکلیف کی شکایت کی تھی، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کروائے گئے اسکین میں صرف معمولی کھنچاؤ سامنے آیا۔ محمد وسیم نے کہا کہ ایسے کرداروں کو ٹیم سے دور کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ڈریسنگ روم کے دیگر کھلاڑیوں کو بہت غلط پیغام جاتا ہے۔
دوسری جانب بعض سابق کرکٹرز نے بھی امام الحق کی انجری کو مبینہ طور پر جعلی قرار دیا ہے۔ اس صورتحال کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے لارڈز ٹیسٹ کے دوران امام الحق کی پنڈلی کی تکلیف کا مکمل جائزہ لینے اور معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماضی میں بھی امام الحق کی انجری سے متعلق معاملات پر کرکٹ بورڈ کے متعدد آفیشلز تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار ٹیسٹ اوپنر کے خلاف ہونے والی انکوائری کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
علاوہ ازیں لندن میں پاکستان ٹیم مینجمنٹ کی ہنگامی بنیادوں پر میٹنگ بھی منعقد ہوئی، جس کے بعد پاکستان کرکٹ میں ایک مرتبہ پھر بڑے فیصلوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔