سندھ کابینہ کا حکومت کو گندم فروخت کرنے والے آبادگاروں کے لیے اضافی سبسڈی دینے کا فیصلہ
سندھ کابینہ نے حکومت کو گندم فروخت کرنے والے آبادگاروں کے لیے اضافی سبسڈی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی اور ربیع 2026-27 میں گندم کے آبادگاروں کی معاونت سے متعلق تجاویز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ ڈی اے پی کھاد کی متوقع خوردہ قیمت 17,904 روپے فی بوری مقرر کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈی اے پی کھاد پر 3,500 روپے فی بوری سبسڈی تجویز کی گئی ہے۔ ڈی اے پی سبسڈی متوقع قیمت کا تقریباً 20 فیصد ہوگی۔
اجلاس میں 25 ایکڑ تک اراضی رکھنے والے گندم کے آبادگاروں کے لیے سبسڈی منصوبہ کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ چھوٹے گندم کے آبادگاروں کو ہدفی معاونت فراہم کرنے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ حکومت کو گندم فروخت کرنے والے آبادگاروں کے لیے اضافی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ محکمہ خوراک کو گندم فروخت کرنے والے آبادگاروں کو حکومتی خریداری میں حصہ لینے پر اضافی مراعات دی جائیں گی، جبکہ دیگر اہل چھوٹے گندم کے آبادگاروں کو بھی سپورٹ پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سندھ ویٹ گروورز سپورٹ پروگرام کے تحت نئے آبادگاروں کی رجسٹریشن کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ پہلے سے رجسٹرڈ گندم کے آبادگاروں کی دوبارہ تصدیق اور توثیق کی جائے گی۔ گندم کے آبادگاروں کی اراضی اور ملکیت کی ڈیجیٹل تصدیق بھی ہوگی۔ ڈیجیٹل تصدیق کے ذریعے جعلی، غیر اہل اور ایک سے زائد مرتبہ رجسٹرڈ مستحقین کو پروگرام سے خارج کیا جائے گا۔
سندھ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سبسڈی حقیقی اور اہل گندم کے آبادگاروں تک پہنچائی جائے گی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ پروگرام کے تحت 3 لاکھ 33 ہزار 127 آبادگاروں کو ڈی اے پی سبسڈی دی گئی، جبکہ 3 لاکھ 14 ہزار 317 آبادگاروں کو یوریا سبسڈی فراہم کی گئی۔ ڈی اے پی اور یوریا سبسڈی پروگرام کے نتیجے میں گندم کی فصل اور پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا اور 2025-26 کے دوران گندم کی فصل اور پیداوار میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی۔
سندھ کابینہ نے آئندہ گندم کی فصل کے لیے کم از کم امدادی قیمت کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر گندم کی امدادی قیمت کے تعین کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات شامل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ گندم کے آبادگاروں کے لیے معاونتی پروگرام کے جامع عملدرآمد اور ڈیجیٹل تصدیق کا روڈ میپ تیار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی پروگرام ہدفی، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہونا چاہیے اور چھوٹے آبادگاروں کو سبسڈی پروگرام میں ترجیح دی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گندم کے آبادگاروں کی معاونت اور غذائی تحفظ کے لیے سندھ حکومت کے اہم اقدامات جاری رہیں گے۔