8 سیکنڈ میں بچے کو بچانے والی رضیہ کی بہادری کے دنیا بھر میں چرچے
پمز ہسپتال میں بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کے دوران ایک بچے کو شعلوں سے نکال کر بچانے والی نرس رضیہ نورین کی بہادری کو دنیا بھر میں چرچے ہو رہے ہیں ۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ رضیہ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو صرف 8 سیکنڈ میں آگ سے بچایا۔
جب نرسری میں اچانک آگ لگی تو رضیہ نورین اپنی ڈیوٹی ختم کرکے گھر جانے کی تیاری کر رہی تھیں، لیکن انہوں نے اپنی جان بچانے کے بجائے بچوں کو بچانے کو ترجیح دی۔
وہ صرف 8 سیکنڈ کے لیے نرسری کے اندر گئیں اور آکسیجن پائپ اور دیگر آلات سے جڑے ایک کم وزن نومولود بچے کو گود میں اٹھا کر بحفاظت کوریڈور میں لے آئیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے لکھا کہ نرس رضیہ نورین کو اس غیر معمولی جرات پر پاکستان بھر میں قومی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت پاکستان نے رضیہ کو ستارہ خدمت اور مالی انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
اخبار نے لکھا کہ نرس رضیہ نورین وہ خاتون ہے جس نے آگ میں جاتے وقت اپنا نہیں بلکہ بچوں کو بچانے کا سوچا۔
رضیہ نے واشنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کام ہیرو بننے کے لیے نہیں بلکہ ایک نرس اور ایک ماں کی حیثیت سے اپنا فرض نبھایا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت میرے ذہن میں یہ خیال بھی نہیں تھا کہ مجھے اس کام کی کوئی پذیرائی ملے گی۔ آگ کو دیکھتے ہی میں خود بخود بچوں کی طرف بھاگتی چلی گئی، میں چاہتی تھی کہ بس بچے بچ جائیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر رمشا کے ساتھ دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی، لیکن آگ اتنی شدید ہو چکی تھی جس کی وجہ سے ہم مزید بچوں کو نہیں نکال سکے، جس کا مجھے شدید دکھ ہے۔
رضیہ نے کہا کہ آگ میں جلتے ہوئے کمرے میں داخل ہوتے وقت میرا واحد مقصد بچوں کی جان بچانا تھا۔