Breaking News

پاکستانی ماہرِ ماحولیات کی ٹیم نے بین الاقوامی واٹر انوویشن مقابلہ جیت لیا

پاکستانی ماہرِ ماحولیات کی ٹیم نے بین الاقوامی واٹر انوویشن مقابلہ جیت لیا
۳ گھنٹے پہلے

اسلام آباد: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی ایک فیکلٹی رکن ڈاکٹر بشریٰ غفار پر مشتمل ٹیم نے زراعت میں پانی کے انتظام کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا کے استعمال سے متعلق بین الاقوامی مقابلہ WaPOR Hackathon 2026 جیت لیا ہے۔ 

نیدرلینڈز کے IHE Delft Institute for Water Education کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے اس مقابلے میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ماحولیاتی علوم کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ غفار نے فاتح ٹیم CaneWise کی رکن کی حیثیت سے حصہ لیا۔ 

ٹیم کین وائز نے دنیا کے مختلف ممالک سے شریک ہونے والی 47 ٹیموں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 

 

مقابلے کے آخری مرحلے کے لیے چھ ٹیموں کا انتخاب کیا گیا تھا، جبکہ فاتح ٹیم کا اعلان 27 اگست کو منعقدہ براہِ راست سیشن میں کیا گیا۔ 

یہ مقابلہ نیدرلینڈز میں منعقد ہوا اور اس میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) اور انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) نے بھی تعاون کیا، جبکہ نیدرلینڈز کی وزارتِ خارجہ نے معاونت فراہم کی۔ 

 

مقابلے کا موضوع "ٹولز سے فیصلوں تک" تھا، جس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ آزادانہ طور پر دستیاب سیٹلائٹ ڈیٹا کس طرح زمینی سطح پر اداروں کے حقیقی فیصلوں کو بہتر بنا سکتا ہے۔ 

فاتح ٹیم کا تیار کردہ منصوبہ CaneWise جنوبی ایشیا کے گنے کے کاشت کاری والے علاقوں میں درپیش ایک اہم مسئلے کا حل پیش کرتا ہے۔ 

 

شوگر ملز کو ہر سیزن میں اپنے گنے کی سپلائی کے علاقوں کا جائزہ لینے اور گنے کی کرشنگ کی متوقع مقدار کا اندازہ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

 تاہم، محدود تعداد میں فیلڈ افسران کو ہزاروں چھوٹے کاشتکاروں کے کھیتوں کا جائزہ لینا پڑتا ہے۔ 

اس صورتحال میں فیلڈ افسران عموماً مقررہ شیڈول کے مطابق معائنے کرتے ہیں، جس کے باعث پانی کی کمی یا فصل پر آبی دباؤ کا مسئلہ اکثر اس وقت سامنے آتا ہے جب پیداوار کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہوتا ہے۔ 


CaneWise، FAO کے WaPOR  سیٹلائٹ ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ہر دس روز بعد فصلوں کے تبخیر و تعرق (evapotranspiration) اور بایوماس سے متعلق معلومات حاصل کرتا ہے۔

 

 اس ڈیٹا کی مدد سے دیہات کے مختلف گروپس کو پانی کی کمی کی شدت اور اس امکان کی بنیاد پر ترجیح دی جاتی ہے کہ آیا صورتحال کو اب بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

 

 اس طرح فیلڈ افسران کو ان علاقوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں بروقت مداخلت سے فصل کے سیزن کے نتائج میں بہتری لائی جا سکتی ہو۔ 

ایوارڈ کی توصیفی تحریر میں CaneWise کو وہ حل قرار دیا گیا جس نے سیٹلائٹ ڈیٹا کو ایسے عملی فیصلوں میں تبدیل کرنے میں سب سے زیادہ مؤثریت دکھائی جو بالآخر آخری صارفین تک پہنچتے ہیں۔ 

ڈاکٹر بشریٰ غفار نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد زیادہ پانی استعمال کرنا نہیں بلکہ اتنے ہی پانی سے زیادہ فصل حاصل کرنا ہے۔ 

 

ان کے بقول، پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کا شکار نہری نظاموں میں یہ فرق انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا ترجیحات کا تعین کرتا ہے، جبکہ فیلڈ افسر زمینی حقائق کی تصدیق کرتا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں