Pakistan

شادمان ٹریفک حادثہ: لاش کی حوالگی کے لیے پولیس کا اہلِ خانہ سے غلطی تسلیم کرنے کا مبینہ مطالبہ

شادمان ٹریفک حادثہ: لاش کی حوالگی کے لیے پولیس کا اہلِ خانہ سے غلطی تسلیم کرنے کا مبینہ مطالبہ
۵ گھنٹے پہلے

لاہور کے علاقے شادمان میں مبینہ ٹریفک حادثے کے نتیجے میں نوجوان محمد زین کی ہلاکت پر اہلِ خانہ نے پولیس اور ٹریفک وارڈن کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

 

اہلِ خانہ کے مطابق محمد زین ایک نجی کمپنی میں الیکٹریشن کے طور پر کام کرتا تھا اور واقعے سے صرف تین ہفتے قبل ہی اس کی منگنی ہوئی تھی۔

 

متوفی کی والدہ نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہیں مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ تحریری طور پر یہ بیان دیں کہ حادثے میں غلطی محمد زین کی تھی، جس کے بعد ہی لاش ان کے حوالے کی جائے گی۔ اہلِ خانہ کے مطابق میت اس وقت جنرل اسپتال میں موجود ہے۔

 

واقعہ 26 اگست 2026 کو شام کے وقت پیش آیا، جب محمد زین موٹر سائیکل پر شادمان مارکیٹ میں واقع اپنے دفتر جا رہا تھا۔ اہلِ خانہ کی جانب سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو دی گئی درخواست کے مطابق، ڈیوٹی پر موجود سینئر ٹریفک وارڈن سلطان الحق نے اسے روکنے کی کوشش کی۔

 

درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ وارڈن سڑک کے درمیان آیا اور نوجوان کو مبینہ طور پر دھکا دیا، جس کے باعث زین موٹر سائیکل سمیت گھسٹتا ہوا فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا اور اس کے سر پر شدید چوٹیں آئیں۔

 

اہلِ خانہ کے مطابق زخمی محمد زین کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں دماغ کا آپریشن بھی کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔

 

متوفی کے ورثا نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ متعلقہ ٹریفک وارڈن نے کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے دفاع میں مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی اصل صورتحال سی سی ٹی وی فوٹیج اور موقع پر موجود عینی شاہدین کے بیانات سے واضح ہو سکتی ہے۔

 

درخواست گزاروں کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر اہلکار کو نوجوان کو دھکا دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ زین کے دفتری ساتھیوں اور دیگر راہگیروں نے بھی واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

 

اہلِ خانہ نے محمد زین کا سامان، رقم، شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس بھی واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 

متوفی کے ورثا نے اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

 

دوسری جانب چیف ٹریفک آفیسر لاہور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی صدر زون کو انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔ 

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں