عدالت میں اصل الزامات کے بجائے مبینہ ذاتی تعلق کے معاملات اٹھائے گئے: مومنہ
اداکارہ مومنہ اقبال نے کہا ہے کہ انہوں نے ثاقب چدھڑ کے خلاف ہراسانی، بلیک میلنگ، سائبر بلنگ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں سے متعلق مقدمہ درج کروایا تھا، تاہم اصل الزامات کے بجائے عدالت میں ان کے مبینہ ذاتی تعلق سے متعلق معاملات اٹھائے گئے۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے مومنہ اقبال نے کہا کہ وہ ثاقب چدھڑ کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق میں نہیں تھیں۔
اداکارہ نے دعویٰ کیا کہ ثاقب چدھڑ کے خاندانی ماحول میں خواتین کے ساتھ تشدد کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو بیلٹ سے مارنے، بال نوچنے اور دیوار سے ٹکرانے جیسے رویوں کی وجہ سے خواتین کے بارے میں مخصوص ذہنیت پروان چڑھتی ہے۔
مومنہ اقبال نے واضح کیا کہ وہ ثاقب چدھڑ کے ساتھ کسی تعلق میں نہیں تھیں اور کہا کہ انکار کا مطلب انکار ہی ہوتا ہے، چاہے کوئی لڑکی نکاح سے ایک دن پہلے ہی کیوں نہ پیچھے ہٹ جائے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ چار سال سے ذہنی صدمے کا سامنا کر رہی ہیں۔مومنہ اقبال نے کہا کہ ثاقب چدھڑ کی سیاسی مہم شروع ہونے کے وقت انہوں نے ان کی شخصیت اور ظاہری انداز کو بہتر بنانے میں مدد کی، فوٹو شوٹس کروائے اور گرومنگ میں بھی معاونت کی۔
اداکارہ کے مطابق انتخابات کے دوران ثاقب چدھڑ سے متعلق مبینہ کڈنی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ان کے والد نے دونوں کے درمیان تعلق ختم کر دیا، جس کے بعد حالات خراب ہوتے چلے گئے۔مومنہ اقبال نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بعد ازاں انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔