پاکستان کے پہلے وائلڈ لائف ہسپتال کی تعمیر مکمل
پاکستان کے پہلے وائلڈ لائف ہسپتال کی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے۔
محکمہ جنگلات و وائلڈ لائف کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے دورے کے موقع پر پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کو اجلاس میں وائلڈ لائف ہسپتال سمیت مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جدید سہولیات سے آراستہ پاکستان کے پہلے وائلڈ لائف ہسپتال میں 12 آپریشن تھیٹرز اور 2 معائنہ رومز قائم کیے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت وائلڈ لائف ہسپتال کا قیام جنگلی حیات کے علاج اور تحفظ کے حوالے سے اہم سنگ میل ہے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جلو پارک کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت جدید ایکو ٹورازم مرکز بنانے کے لیے ماسٹر پلان اور بزنس پلان تیار کرنے کی ہدایت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
جنگلات میں آتشزدگی کی بروقت نشاندہی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس نظام نصب کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اے آئی، لانگ رینج تھرمل کیمروں، لائیو سرویلنس اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ذریعے جنگلات کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایک سال میں 5 کروڑ پودے لگانے کا تاریخی سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے، جبکہ مون سون شجرکاری مہم کے دوران مزید ایک کروڑ سے زائد پودے لگائے جا رہے ہیں۔ عوام کی شمولیت سے غازی گھاٹ میں 1500 ایکڑ رقبے پر شجرکاری بھی کی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبے میں 285 جیو ٹیگنگ نرسریاں فعال ہو چکی ہیں، جہاں ہر پودے کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کے ساتھ ڈیجیٹل مانیٹرنگ یقینی بنائی جا رہی ہے۔
سفاری میں جراف کیفے اور ٹری ہاؤس کیفے کی تعمیر بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ دونوں کیفے عوام کو تفریح کی جدید اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کریں گے اور قدرتی ماحول میں ایکو ٹورازم کے فروغ کے لیے نئی سہولت ثابت ہوں گے۔
بریفنگ کے مطابق پانچ ہزار سے زائد اہلکاروں پر مشتمل فارسٹ رینجرز فورس میں پہلی بار 215 خواتین بھی شامل کی گئی ہیں، جبکہ لکڑی چوری کے خلاف کارروائیوں کے دوران ایک کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
اجلاس میں چھانگا مانگا، سفاری اور دیگر وائلڈ لائف منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور ایکو ٹورازم کے فروغ کے لیے اقدامات مزید تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے جنگلات کی لائیو مانیٹرنگ، جیو ٹیگنگ، سیٹلائٹ سرویلنس اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی معائنہ کیا۔