Breaking News

سپریم کورٹ،نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد میں

سپریم کورٹ،نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد میں
۱ منٹ پہلے

سپریم کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان کی رہائشی زیتون بی بی کو وراثتی جائیداد سے متعلق طویل قانونی جنگ میں تقریباً نصف صدی بعد حتمی ریلیف دیتے ہوئے اپنے 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دے دیا۔

 

عدالت عظمیٰ نے مخالف فریق کی جانب سے نظرثانی درخواست خارج کیے جانے کا فیصلہ واپس لینے کے لیے دائر درخواست بھی مسترد کردی۔

 

جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل تین رکنی بنچ نے مقدمے کا فیصلہ سنایا، جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔

 

سپریم کورٹ نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ عدالتی نظام کی بنیاد یقین، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کے احترام پر قائم ہے، اس لیے عدالت کے جاری کردہ احکامات کی پابندی ہر صورت ضروری ہے۔

 

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کی جانب سے دی جانے والی رعایت یا مہلت کو محض رسمی یا ضابطے کی کارروائی سمجھنا افسوسناک طرزِ عمل ہے اور ایسا رویہ عدالتی احکامات کی سنجیدگی اور تقدس کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

 

فیصلے کے مطابق نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران 4 مارچ 2024 کو فریق کو مشروط التواء دیا گیا تھا، تاہم 12 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت کے موقع پر ایک مرتبہ پھر مقدمہ ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی۔

 

سپریم کورٹ نے دوبارہ التواء مانگے جانے اور مقدمے کی عدم پیروی کے باعث نظرثانی درخواست خارج کردی تھی۔

 

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اب نظرثانی درخواست خارج کیے جانے کا حکم واپس لینا دراصل 4 مارچ 2024 کو جاری کیے گئے عدالتی حکم کو واپس لینے کے مترادف ہوگا، جس کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

 

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ فریقین اور وکلا کی جانب سے عدالت کی مہربانی یا رعایت کو معمول کی ضابطہ جاتی کارروائی سمجھنا عدالتی نظم و ضبط کے منافی ہے اور اس سے عدالتی احکامات کی اہمیت متاثر ہوتی ہے۔

 

مقدمے کی تفصیلات کے مطابق زیتون بی بی کے والد کا انتقال 1976 میں ہوا تھا، تاہم انہیں والد کی وفات کے بعد سے ہی ان کے قانونی وراثتی حق اور جائیداد سے محروم رکھا گیا۔

 

طویل عدالتی کارروائی کے بعد سپریم کورٹ نے 2022 میں زیتون بی بی کے حق میں فیصلہ دیا تھا، تاہم اس فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا۔

 

اب عدالت عظمیٰ نے اپنے 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے مخالف فریق کی درخواست مسترد کردی ہے، جس کے بعد زیتون بی بی کو تقریباً نصف صدی پر محیط وراثتی تنازع میں حتمی قانونی ریلیف مل گیا ہے۔

 

واضح رہے کہ مخالف فریق کی نظرثانی درخواست بھی 2024 میں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردی گئی تھی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں