Breaking News

سانحہ جڑانوالہ، ستھرا پنجاب پر سینیٹ کمیٹی میں سخت بحث، عابد شیر ،ایمل ولی کی تلخ کلامی

سانحہ جڑانوالہ، ستھرا پنجاب پر سینیٹ کمیٹی میں سخت بحث، عابد شیر ،ایمل ولی کی تلخ کلامی
۱ منٹ پہلے

 سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سانحہ جڑانوالہ کے متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی، مقدمات میں پیش رفت، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے کردار، گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ایک سابق ملازم کی خودکشی، تنخواہ اور کنٹریکٹ کے معاملات، ستھرا پنجاب کے تحت بھرتیوں اور آؤٹ سورسنگ، تیسرے فریق کے ذریعے عملہ رکھنے، 2025 اور 2026 کے قانونی فریم ورک، متاثرہ خاندان کو دیے گئے پلاٹ اور مالی معاوضے سمیت متعدد معاملات پر تفصیلی اور سخت بحث ہوئی۔

 

کمیٹی نے سانحہ پمز کی ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ ایک ایف آئی آر درج کرنے میں آخر اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے۔

 

اجلاس کے دوران سینیٹر عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان سخت نوک جھونک اور تلخ کلامی بھی ہوئی۔

 

ثمینہ ممتاز زہری کی زیرِ صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا، جس میں سانحہ جڑانوالہ سے متعلق بریفنگ دینے کے لیے پنجاب حکومت کے متعلقہ افسران پیش ہوئے۔

 

پنجاب حکومت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سانحہ جڑانوالہ کے مقدمات میں اب تک 387 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

 

چیئرپرسن کمیٹی ثمینہ ممتاز زہری نے معاملے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے، مگر اسے غیر ضروری طور پر طویل کیا گیا۔

 

پنجاب حکومت کے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ تمام تحفظات دور کیے جائیں گے اور حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔

 

چیئرپرسن کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ متاثرین کی جانب سے یہ شکایات سامنے آرہی ہیں کہ انہیں مالی مدد نہیں ملی، تو ایسی صورتحال میں حکومت کیا کر رہی ہے؟

 

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے کمیٹی کو جو بریفنگ دی گئی ہے، اس سے وہ مطمئن نہیں ہیں۔

 

اجلاس کے دوران سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ سانحہ جڑانوالہ کے بعد پولیس نے اہم کردار ادا کیا اور وہ خود بھی موقع پر موجود تھے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ نے بھی مؤثر کردار ادا کیا، ورنہ مزید جانی اور مالی نقصان ہوسکتا تھا۔

 

عابد شیر علی نے کہا کہ معاملہ بنیادی طور پر دو افراد کے درمیان تھا، تاہم اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

 

انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے حوالے سے جو بھی تحفظات موجود ہیں انہیں دور ہونا چاہیے۔

 

اس موقع پر چیئرپرسن کمیٹی نے عابد شیر علی سے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی پارٹی کے بھی کچھ مسائل ہیں۔

 

عابد شیر علی نے جواب دیا کہ ان کی پارٹی کے کوئی مسائل نہیں اور انہیں اس کیس کے تمام حقائق کا علم ہے۔

 

انہوں نے تجویز دی کہ جن افراد کو معاوضہ دیا گیا ہے، ان کی مکمل فہرست کمیٹی کے سامنے پیش کردی جائے۔

 

چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ متاثرین کو یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انہیں معاوضے کی ادائیگی کی جائے گی۔

 

پنجاب حکومت کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 84 خاندانوں کو معاوضہ ادا کیا جا چکا ہے، جبکہ سپریم کورٹ نے 25 خاندانوں کے حوالے سے نشاندہی کی تھی کہ انہیں معاوضہ نہیں ملا۔

 

حکام کے مطابق متاثرین کی جانب سے 126 خاندانوں کے افراد کی فہرست حکومت کو فراہم کی گئی تھی۔

 

پنجاب حکومت نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے رپورٹ سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی جا چکی ہے۔

 

اجلاس کے دوران سینیٹر سید مسرور حسن نے سانحہ جڑانوالہ کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کردی۔

 

سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ اس معاملے پر ہر مرتبہ باتیں تو کی جاتی ہیں، مگر عملی طور پر کام نہیں کیا جاتا۔

 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ اجلاس میں جو فیصلے اور یقین دہانیاں سامنے آئی تھیں، ان میں سے کتنی باتوں پر عملدرآمد ہوا؟

 

اجلاس میں گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے ایک سابق ملازم کی خودکشی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔

 

گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ خودکشی کرنے والے ملازم کے اہلِ خانہ کو معاوضہ ادا کردیا گیا ہے۔

 

سینیٹر مسرور حسن نے حکام سے سوال کیا کہ کیا ملازم کی موت سے قبل اس کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈ کی گئی تھی؟

 

انہوں نے سخت سوال کرتے ہوئے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ نے اسے قتل کیا؟

 

سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ ملازم کو نصف تنخواہ دی جارہی تھی اور بعد ازاں اس نے خودکشی کرلی۔

 

انہوں نے بتایا کہ خودکشی کرنے والا شخص گوجرانوالہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں ملازم تھا۔

 

سی ای او جی ڈبلیو ایم سی نے مؤقف اختیار کیا کہ جس وقت خودکشی کا واقعہ پیش آیا، اس وقت مذکورہ شخص ان کے ادارے میں کام نہیں کر رہا تھا۔

 

انہوں نے بتایا کہ ملازم 2024 سے 2025 تک ادارے میں کام کرتا رہا۔

 

ممبر کمیٹی قرۃ العین نے سوال کیا کہ صفائی کے کام کے لیے نائب قاصد کی خدمات حاصل کرنے کے لیے تیسرے فریق کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

 

سینیٹر مسرور حسن نے کہا کہ ستھرا پنجاب کے لیے صفائی کا عملہ فراہم کرنے کا معاہدہ تیسرے فریق کے ذریعے کیا گیا۔

 

انہوں نے سوال کیا کہ متعلقہ ادارے نے براہِ راست لوگوں سے معاہدہ کیوں نہیں کیا۔

 

متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ستھرا پنجاب ایکٹ 2026 موجود ہے۔

 

قرۃ العین نے سوال اٹھایا کہ واقعہ 2025 میں ہوا جبکہ ستھرا پنجاب ایکٹ 2026 میں آیا، تو 2025 کے معاملات کس قانونی بنیاد پر چلائے گئے؟

 

ایمل ولی خان نے بھی سوال کیا کہ اگر ادارے 2026 میں قائم ہوئے تو 2025 میں بھرتیاں کیسے کی گئیں؟

 

متعلقہ حکام نے جواب دیا کہ 2025 میں صفائی کا کام آؤٹ سورس کردیا گیا تھا۔

 

ایمل ولی خان نے حکام سے کہا کہ سادہ الفاظ میں بتایا جائے کہ متعلقہ ملازم نے خودکشی کیوں کی۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکام نے ملازم کو اس حد تک پہنچایا کہ اس نے خودکشی جیسا قدم اٹھایا۔

 

سی ای او جی ڈبلیو ایم سی نے کہا کہ ادارے نے ملازم کے تمام بینک ریکارڈ چیک کیے اور ریکارڈ کے مطابق اسے تنخواہ مل رہی تھی۔

 

انہوں نے کہا کہ ملازم نے اپنا کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد خودکشی کی۔

 

سی ای او کے مطابق ملازم کا کنٹریکٹ 31 مئی کو ختم ہوگیا تھا۔

 

اس پر ایمل ولی خان نے سوال کیا کہ کیا ادارہ یہ تسلیم کر رہا ہے کہ ملازم نے کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد خودکشی کی؟

 

سی ای او نے بتایا کہ ملازم کی کارکردگی سے متعلق مسائل بھی موجود تھے۔

 

ایمل ولی خان نے سوال اٹھایا کہ اگر ملازم کی کارکردگی کے مسائل تھے تو کنٹریکٹ ختم کیے جانے کے بعد اسے دوبارہ ملازمت کیوں دی گئی؟

 

سی ای او جی ڈبلیو ایم سی نے کمیٹی کو بتایا کہ خودکشی کرنے والے ملازم کی بیوہ اور بچوں کو معاوضہ دیا گیا اور ایک پلاٹ بھی فراہم کیا گیا۔

 

ایمل ولی خان نے سوال کیا کہ اگر متعلقہ شخص واقعے کے وقت ادارے میں ملازم ہی نہیں تھا اور اسے تنخواہ بھی مل رہی تھی تو پھر اس کے اہلِ خانہ کو پلاٹ کیوں دیا گیا؟

 

سی ای او نے بتایا کہ چیمبر اور دیگر متعلقہ فریقین کو شامل کرکے ملازم کے اہلِ خانہ کے لیے پلاٹ خریدا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ پلاٹ ملنے پر خوش تھے۔

 

اس پر ایمل ولی خان نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر انہیں بھی پلاٹ دیا جائے گا تو وہ بھی خوش ہوں گے۔

 

ستھرا پنجاب حکام کی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 2025 میں پورے پنجاب کو مختلف ذمہ داریاں دی گئی تھیں اور عملہ ہائر کیا جانا تھا۔

 

ایمل ولی خان نے ایک مرتبہ پھر حکام سے کہا کہ اصل بات پر آئیں اور واضح کریں کہ ملازم نے خودکشی کیوں کی۔

 

انہوں نے کہا کہ ایک عام مزدور اس حد تک پہنچ گیا کہ اس نے خودکشی کرلی، اس لیے یہ بتایا جائے کہ اسے اس صورتحال تک کس نے پہنچایا۔

 

ایمل ولی خان نے سوال کیا کہ کیا خودکشی کی واحد وجہ آدھی تنخواہ ملنا تھی؟

 

انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ ملازم کی خودکشی کو کسی ذاتی یا پیار محبت کے معاملے سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

 

اجلاس میں ایک رکن کمیٹی نے ستھرا پنجاب کے افسر کو متنبہ کیا کہ غلط بیانی کی صورت میں چیئرپرسن کمیٹی انہیں گرفتار بھی کروا سکتی ہیں۔

 

کمیٹی نے ستھرا پنجاب حکام سے 2025 اور 2026 کے متعلقہ قوانین کی نقول بھی طلب کرلیں۔

 

چیئرپرسن کمیٹی نے ہدایت کی کہ دونوں سالوں سے متعلق قانونی دستاویزات فوری طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں۔

 

کمیٹی نے حکام سے یہ بھی پوچھا کہ کیا ملازم کے اہلِ خانہ کو باقاعدہ کمپنسیٹ کیا گیا؟

 

ستھرا پنجاب کے افسر نے جواب دیا کہ خاندان کو پلاٹ فراہم کیا گیا۔

 

ایمل ولی خان نے کہا کہ اگر پہلے ملازم کو فارغ کیا گیا، پھر دوبارہ ہائر کیا گیا اور حکام کے مطابق اس کی مکمل تنخواہیں بھی ادا ہورہی تھیں، تو پھر اس کے اہلِ خانہ کو معاوضہ دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

 

چیئرپرسن کمیٹی نے حکام سے ستھرا پنجاب منصوبے کی نوعیت کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا یہ آؤٹ سورسنگ اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا منصوبہ ہے؟

 

انہوں نے سوال کیا کہ اس منصوبے کے دائرہ کار میں کہاں درج ہے کہ آئی ٹی سپورٹ کا کام بھی شامل ہے؟

 

اجلاس میں سخت سوالات کے دوران ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب سینیٹر عابد شیر علی نے کمیٹی اراکین کے اندازِ سوالات پر اعتراض کیا۔

 

عابد شیر علی نے کہا کہ متعلقہ حکام کا مؤقف بھی سنا جائے، کیونکہ جس طرح سوالات کیے جا رہے ہیں وہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی تھانے میں بیٹھ کر تفتیش کی جارہی ہو۔

 

اس دوران عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی جو بعد ازاں تلخ کلامی میں تبدیل ہوگئی۔

 

ایک رکن کمیٹی نے کیمرے بند کرانے کی بات بھی کی۔

 

عابد شیر علی نے کہا کہ انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ کوئی غلط بات نہیں کر رہے۔

 

انہوں نے ایمل ولی خان سے کہا کہ وہ طریقے سے بات کریں۔

 

اس پر ایمل ولی خان نے جواب دیا کہ وہ طریقے سے ہی بات کر رہے ہیں اور عابد شیر علی بھی طریقے سے بات کریں۔

 

صورتحال کشیدہ ہونے پر قرۃ العین مری اور دیگر اراکین نے عابد شیر علی اور ایمل ولی خان کے درمیان بیچ بچاؤ کی کوشش کی۔

 

اجلاس کے دوران عابد شیر علی ستھرا پنجاب کے حکام سے چیئرپرسن اور کمیٹی اراکین کے سخت سوالات پر برہم بھی نظر آئے۔

 

حنا جاوید قتل کیس سے متعلق سی پی او راولپنڈی نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور کیس کی تفتیش سائنسی بنیادوں پر کی جارہی ہے، جبکہ اب تک جمع کیے گئے 19 شواہد فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے جا چکے ہیں۔

 

سی پی او راولپنڈی نے بتایا کہ واقعے کے فوری بعد فرانزک ٹیم کو طلب کیا گیا اور کرائم سین سے تمام ممکنہ شواہد سائنسی طریقہ کار کے تحت اکٹھے کیے گئے۔

 

انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن کی ٹیم کو بھی کیس کے ابتدائی مرحلے سے ہی تفتیشی عمل میں شامل رکھا گیا ہے، جبکہ کیس کی نگرانی کے لیے ایک سپروائزری ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔

 

سی پی او کے مطابق پولیس پہلے دن سے مقتولہ کے اہلِ خانہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور تفتیشی ٹیم نے کرائم سین کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔

 

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اس کیس میں کوئی عینی شاہد موجود نہیں، اسی لیے تفتیش کا زیادہ انحصار سائنسی اور فرانزک شواہد پر ہے۔

 

سی پی او راولپنڈی نے کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ بھی تفتیش کا حصہ ہیں اور کیس کے نتائج کے حصول کے لیے تمام متعلقہ شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

 

انہوں نے بتایا کہ حنا جاوید کے سسر کو بھی شاملِ تفتیش کیا گیا ہے۔

 

بریفنگ کے دوران سی پی او نے کہا کہ مجموعی طور پر 19 شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں اور تمام شواہد فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، تاہم ان کی حتمی رپورٹس ابھی موصول ہونا باقی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پولیس کیس کے نتائج تک پہنچنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں۔

 

اس موقع پر کمیٹی رکن قرۃ العین مری نے کہا کہ پراسیکیوشن ٹیم کو ابھی اجلاس میں بلایا جائے اور ان کا مؤقف بھی سنا جائے۔

 

سی پی او راولپنڈی نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ حنا جاوید قتل کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور تفتیش تمام دستیاب شواہد اور سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھائی جارہی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں