وکیل ثنااللہ ستی کی لاش گاڑی سے ملنے کا مقدمہ درج
راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز کی حدود میں نیو جوڈیشل کمپلیکس کے لائرز کلب کی پارکنگ سے وکیل ثنااللہ ستی کی گاڑی میں لاش ملنے کے پراسرار واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس نے مقتول کے بھائی بیرسٹر سجاد احمد ستی کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 942/26 تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302/34 کے تحت درج کرکے قتل کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق ثنااللہ ستی پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے اور تقریباً ایک سال سے اپنی بیٹی کے ہمراہ راولپنڈی میں رہائش پذیر تھے۔
مدعی بیرسٹر سجاد احمد ستی کے مطابق انہیں اطلاع ملی کہ ان کے بھائی ثنااللہ ستی کی لاش ان کے زیر استعمال سوزوکی سوئفٹ گاڑی نمبر BAX-687 کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود ہے۔
اطلاع ملنے کے بعد بیرسٹر سجاد احمد ستی، راجا محمد عبداللہ ایڈووکیٹ اور شارق ستی ایڈووکیٹ کے ہمراہ نیو جوڈیشل کمپلیکس کی لائرز کلب پارکنگ پہنچے۔
ایف آئی آر کے مطابق موقع پر ثنااللہ ستی کی لاش گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھی، جبکہ ان کے منہ سے سفید جھاگ اور خون نکل رہا تھا۔
مقدمے میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مقتول کے جسم کے مختلف حصوں پر بظاہر زخموں کے نشانات موجود تھے، خصوصاً دونوں کندھوں پر زخموں کے آثار نمایاں تھے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور کرائم سین سے ممکنہ شواہد اکٹھے کیے۔
پولیس نے ثنااللہ ستی کے زیر استعمال 2 موبائل فونز بھی تحویل میں لے لیے ہیں، جن کا فارنزک اور تکنیکی جائزہ لیا جائے گا۔
اس کے علاوہ نیو جوڈیشل کمپلیکس میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ بھی پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے تاکہ مقتول کی نقل و حرکت اور واقعے سے قبل یا بعد کی ممکنہ سرگرمیوں کا جائزہ لیا جاسکے۔
پولیس کے مطابق مقتول کے کلائنٹ حماد کو بھی شاملِ تفتیش کیا جارہا ہے، جس کے موبائل نمبر سے ثنااللہ ستی کے ساتھ رابطہ ہوا تھا۔
تحقیقات کے دائرے میں مقتول کے کلرک اور منشی کو بھی شامل کیا گیا ہے اور ان سے واقعے سے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاش کے پوسٹ مارٹم اور فرانزک معائنے کے بعد موت کی اصل وجہ اور واقعے کے حقیقی محرکات کے بارے میں اہم حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔
وکیل ثنااللہ ستی کے پراسرار قتل کی تفتیش انسپکٹر مرزا محمد عارف، ہیومن انویسٹی گیشن یونٹ (ایچ آئی یو)، کے سپرد کردی گئی ہے، جو دستیاب فارنزک شواہد، موبائل فونز، سی سی ٹی وی ریکارڈ اور متعلقہ افراد کے بیانات کی روشنی میں تحقیقات آگے بڑھائیں گے۔