Business

آئی پی پیز سے جان چھڑانے کے دعوؤں کے برعکس 4 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے

آئی پی پیز سے جان چھڑانے کے دعوؤں کے برعکس 4 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے
۲ دن پہلے

آئی پی پیز سے جان چھڑانے اور بجلی سستی کرنے کے حکومتی دعوؤں کے برعکس موجودہ حکومت نے 2025 میں مزید 4 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کیے ہیں، جن میں طویل المدتی معاہدے بھی شامل ہیں۔ سامنے آنے والی تفصیلات نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ پاکستان آخر ان مہنگے بجلی معاہدوں کے چنگل سے کب نکلے گا؟ ایک طرف حکومت پرانے آئی پی پیز کے معاہدے ختم کرنے اور ان پر نظرثانی کو بڑی اصلاحات کے طور پر پیش کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب نئے معاہدے بھی کیے جارہے ہیں جن کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

 

یہ صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دے رہی ہے کہ آخر وہ کون سے مالی، قانونی یا دیگر عوامل ہیں جو حکومت کو آئی پی پیز کے مہنگے معاہدے برقرار رکھنے، ان میں توسیع کرنے یا نئے معاہدے کرنے پر مجبور کررہے ہیں؟ اور کب تک بجلی کے بھاری بلوں اور کیپیسٹی چارجز کی صورت میں پاکستانی عوام کی جیبوں سے اربوں روپے وصول کرکے پاور کمپنیوں کو ادائیگیاں کی جاتی رہیں گی؟ موجودہ صورتحال سے یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ اگر یہی پالیسی جاری رہی تو آئی پی پیز کا بوجھ صرف موجودہ صارفین ہی نہیں بلکہ پاکستان کی آنے والی نسلوں کو بھی برداشت کرنا پڑے گا۔

 

وزارتِ توانائی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق ملک میں اس وقت مجموعی طور پر 105 انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز، یعنی آئی پی پیز کے معاہدے مؤثر ہیں، جن میں سے متعدد کی مدت ابھی 20 سال سے بھی زیادہ باقی ہے، جبکہ بعض معاہدے 2050 اور اس کے بعد تک جاری رہیں گے۔

 

دستاویزات سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ موجودہ حکومت نے سال 2025 کے دوران 4 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کیے ہیں۔

 

ان معاہدوں میں جامشورو کول پاور پلانٹ کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو 30 سالہ طویل مدتی معاہدہ کیا گیا۔

 

اسی طرح کوٹ ادو پاور پلانٹ، کیپکو کے ساتھ 3 جون 2025 کو 3 سالہ نیا معاہدہ طے پایا۔

 

تاہم دستیاب تفصیلات میں 2025 کے دوران کیے گئے باقی دو نئے معاہدوں کے مخصوص پاور پلانٹس کے نام واضح طور پر سامنے نہیں آئے۔

 

دستاویزات کے مطابق بعض آئی پی پیز کے معاہدے اس قدر طویل مدت کے ہیں کہ وہ 2050 اور اس کے بعد بھی مؤثر رہیں گے، جس کے باعث مستقبل میں بجلی کے شعبے پر مالی ذمہ داریوں اور صارفین پر ممکنہ بوجھ سے متعلق سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔

 

صرف موجودہ حکومت ہی نہیں بلکہ سابق حکومتوں کے ادوار میں بھی بڑی تعداد میں آئی پی پیز معاہدے کیے گئے۔

 

دستاویزات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت، یعنی 2018 سے 2022 کے درمیان، مجموعی طور پر 27 آئی پی پیز معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے، جن میں سے متعدد کی مدت ابھی 20 سال سے زائد باقی ہے۔

 

دوسری جانب حکومت پاور سیکٹر میں اصلاحات کے تحت بعض پرانے اور مہنگے آئی پی پیز معاہدے وقت سے پہلے ختم کرنے کے اقدامات بھی کررہی ہے۔

 

پاور سیکٹر ریفارمز ٹاسک فورس کی سفارشات پر وفاقی کابینہ نے 5 اہم آئی پی پیز کے ساتھ بجلی خریداری کے معاہدے قبل از وقت ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔

 

ان کمپنیوں میں حبکو، لال پیر پاور، صبا پاور، روش پاور اور ایٹلس پاور شامل ہیں۔

 

ایٹلس پاور کا اصل معاہدہ 2034 تک جاری رہنا تھا، تاہم اسے مقررہ مدت سے پہلے ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

 

یوں ایک جانب حکومت بعض آئی پی پیز کے معاہدے ختم کرکے اسے پاور سیکٹر میں بڑی اصلاحات کے طور پر پیش کررہی ہے، جبکہ دوسری جانب نئے معاہدوں کی تفصیلات سامنے آنے سے حکومتی حکمت عملی پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔

 

آئی پی پیز کے ساتھ مہنگے بجلی معاہدوں کا سب سے بڑا اثر صارفین پر عائد ہونے والے کیپیسٹی چارجز کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے، جن کے تحت بعض صورتوں میں بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود پاور کمپنیوں کو ان کی دستیاب پیداواری صلاحیت کے حساب سے ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔

 

بھاری کیپیسٹی چارجز اور آئی پی پیز کو اضافی ادائیگیوں کے خلاف عدالتی کارروائی بھی ہوچکی ہے، تاہم اس حوالے سے دائر ایک درخواست کو عدالت نے ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

 

وزارتِ توانائی کی دستاویزات میں سامنے آنے والی تازہ تفصیلات نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے پاور سیکٹر کی پالیسی اور آئی پی پیز کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں