Pakistan

حنا جاوید کیس تحقیقات کو مرکزی ملزم کے بجائے ملازم کی جانب موڑا جا رہا ہے:اہلِ خانہ

حنا جاوید کیس تحقیقات کو مرکزی ملزم کے بجائے ملازم کی جانب موڑا جا رہا ہے:اہلِ خانہ
۱ منٹ پہلے

حنا جاوید قتل کیس میں مقتولہ کے اہلِ خانہ نے پولیس تفتیش پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تحقیقات کو ایف آئی آر میں نامزد تمام افراد  اور مرکزی ملزم کے بجائے ایک مخصوص سمت، خصوصاً گھریلو ملازم، کی جانب موڑا جا رہا ہے۔

 

 خاندان نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، وزارتِ قانون اور پارلیمانی کاکس کمیٹی سے رجوع کرتے ہوئے آزاد، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات، تمام الیکٹرانک آلات کے فرانزک اور کیس میں نامزد ہر شخص کے کردار کی مکمل چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔

 

حنا جاوید کے بھائی نے چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو خط لکھا، جبکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے وزارتِ قانون اور پارلیمنٹ کی متعلقہ کاکس کمیٹی کو بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

 

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تفتیش ایف آئی آر میں درج الزامات اور نامزد افراد کے کردار کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی اور خاندان کو خدشہ ہے کہ کیس کے بعض اہم پہلوؤں کو نظرانداز کرکے اصل حقائق چھپانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

 

اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ تحقیقات کا رخ اصل ملزمان کے کردار کی مکمل جانچ کے بجائے گھریلو ملازم کی طرف موڑا جا رہا ہے، جبکہ کیس سے متعلق بعض اہم شواہد کو بھی ان کے مطابق مناسب انداز میں محفوظ نہیں کیا گیا۔

 

خاندان نے مطالبہ کیا کہ مرکزی ملزم شوہر، گھریلو ملازم اور دیگر متعلقہ افراد کے موبائل فونز، کمپیوٹرز اور دیگر الیکٹرانک آلات کا فوری فرانزک کرایا جائے تاکہ رابطوں، لوکیشن، پیغامات اور دیگر ممکنہ ڈیجیٹل شواہد کو محفوظ کیا جا سکے۔

 

متاثرہ خاندان نے حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات ایک آزاد تحقیقاتی ٹیم کے سپرد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ تفتیش کے غیر جانب دار ہونے پر کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے۔

 

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے سامنے خاندان کا مؤقف


قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق کمیشن نے حنا جاوید کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، جہاں خاندان نے حنا کی موت پر شدید صدمے کے ساتھ پولیس تفتیش کی غیر جانب داری پر اپنے تحفظات سامنے رکھے۔

 

خاندان نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات مکمل طور پر میرٹ پر کی جائیں، کسی قسم کا غیر ضروری تعطل نہ ہو اور قانونی کارروائی مقررہ وقت میں آگے بڑھائی جائے۔

 

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کیس کی تحقیقات منصفانہ، شفاف اور غیر جانب دارانہ ہونی چاہییں۔

 

خاندان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد اور واقعے سے ممکنہ طور پر منسلک ہر شخص کے کردار کی یکساں طور پر چھان بین کی جائے اور کسی فرد کو محض اثر و رسوخ یا کسی دوسرے سبب کی بنیاد پر تفتیش سے باہر نہ رکھا جائے۔

 

سسر کے کردار کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ


اہلِ خانہ نے اپنے سابقہ مشترکہ بیان میں حنا کے سسر اصغر علی فیاض کے کردار کی بھی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔

 

خاندان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص نے جرم میں براہ راست حصہ لیا، سہولت کاری کی، منصوبہ بندی میں معاونت کی یا شواہد چھپانے کی کوشش کی تو اسے بھی قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔

 

اہلِ خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ جزوی احتساب مکمل انصاف نہیں اور کیس کو صرف پہلے سے گرفتار افراد تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔

 

خاندان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تفتیش کسی بااثر شخص کے دباؤ سے آزاد رکھی جائے اور میڈیا، سول سوسائٹی اور متعلقہ ادارے مقدمے کی نگرانی جاری رکھیں تاکہ معاملہ وقت گزرنے کے ساتھ دب نہ جائے۔

 

قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی میں بھی سوالات


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں بھی حنا جاوید قتل کیس زیرِ بحث آیا تھا، جہاں ارکان نے سی پی او راولپنڈی سے سوال کیا کہ حنا کے سسر کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔

 

سی پی او راولپنڈی نے بتایا تھا کہ انہیں تین روز تک حراست میں رکھ کر تفتیش کی گئی اور کیس کے بعض تفتیشی پہلو اس مرحلے پر ظاہر نہیں کیے جاسکتے۔

 

پولیس نے کمیٹی کو بتایا کہ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر واقعے کو ڈکیتی یا خودکشی نہیں بلکہ قتل کے زاویے سے دیکھا گیا اور کرائم سین سے متعدد شواہد اکٹھے کرکے فرانزک کے لیے بھجوائے گئے۔

 

پولیس کے مطابق کیس میں کوئی عینی شاہد موجود نہیں، اس لیے سائنسی، فرانزک، ڈی این اے اور دیگر مادی شواہد کی اہمیت زیادہ ہے۔

 

کیس کا پس منظر


حنا جاوید کی شادی نومبر 2025 میں فیصل اصغر سے ہوئی تھی۔

 

20 اگست 2026 کی صبح راولپنڈی کے لال کرتی اور سول لائنز کے علاقے میں واقع گھر کے باتھ روم سے ان کی لاش ملی۔

 

ایف آئی آر کے مطابق حنا کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منہ پر کپڑا تھا اور گلے میں تار موجود تھی۔

 

حنا کے بھائی فہد جاوید ملک کی مدعیت میں درج مقدمے میں شوہر فیصل اصغر، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد کو نامزد کیا گیا۔

 

اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ حنا کو تشدد کے بعد قتل کیا گیا اور واقعے کو کسی دوسری نوعیت کا ظاہر کرنے کی کوشش ہوئی، تاہم ان الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد کی بنیاد پر ہونا باقی ہے۔

 

ابتدائی پوسٹ مارٹم میں حنا کی گردن کی ہڈی ٹوٹنے، جسم کے مختلف حصوں پر زخموں اور دل کے گرد خون موجود ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

 

ابتدائی رپورٹ سے موت کی حتمی وجہ طے نہ ہونے پر نمونے مزید فرانزک تجزیے کے لیے بھجوائے گئے۔

 

شوہر اور ملازم جوڈیشل ریمانڈ پر


کیس میں شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان کو جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔

 

پولیس ذرائع کی جانب سے گھریلو ملازم سے منسوب ایک مبینہ اعترافی بیان کا ذکر بھی سامنے آیا ہے، تاہم کسی بھی اعتراف یا الزام کی قانونی حیثیت اور جرم کا تعین بالآخر عدالت کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔

 

پنجاب حکومت نے کیس کو ہائی پروفائل قرار دیتے ہوئے سینئر پراسیکیوٹرز کی خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی ہے جو تفتیش اور پراسیکیوشن کے مراحل کی نگرانی کر رہی ہے۔

 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بھی وزارتِ داخلہ کو کیس مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر تشویش ظاہر کی اور شفاف تحقیقات پر زور دیا۔

 

حنا جاوید کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ تفتیش کسی ایک شخص تک محدود نہ رہے، بلکہ ایف آئی آر، فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور تمام نامزد افراد کے کردار کو یکجا کرکے مکمل، آزاد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔

 

ملزم زیشان ارشد کی ضمانت پر سماعت 14 ستمبر تک ملتوی

 

 حنا جاوید کے بہیمانہ تشدد اور قتل کیس میں گرفتار ملزم زیشان ارشد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت 14 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصیر احمد نے کیس کی سماعت کی۔

 

سماعت کے دوران ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر ریکارڈ پیش کرنے کے بجائے لاہور چلا گیا، جبکہ آئندہ سماعت پر ایس ایچ او کو ہر صورت ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

 

گرفتار ملزم زیشان ارشد کے دو وکلا کی جانب سے دو الگ وکالت نامے پیش کیے گئے۔ عدالت کے مطابق جیل سے دو مختلف بائیومیٹرک اور دو وکالت نامے کلیئر ہوئے، جس پر دونوں وکالت نامے سپرنٹنڈنٹ جیل کو بھجوا کر کلیئرنس لینے کا حکم دیا گیا۔

 

عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی حساس اور ہائی پروفائل کیس ہے، کسی کی ہینکی پھینکی نہیں چلے گی۔

 

مقتولہ حنا جاوید کے اہلِ خانہ نے بھی پولیس کی تفتیش اور رویے پر سوالات اٹھاتے ہوئے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ خاندان کی جانب سے سابق جج ہائیکورٹ شاہ خاور عدالت میں پیش ہوں گے، جبکہ حنا جاوید کے بھائی فہد جاوید نے بائیومیٹرک تصدیق کرا لی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں