Pakistan

ایف ڈی آئی کی دو خواتین ملازمین مبینہ ہراسیت کے خلاف فوسپا پہنچ گئیں

ایف ڈی آئی کی دو خواتین ملازمین مبینہ ہراسیت کے خلاف فوسپا پہنچ گئیں
۱ منٹ پہلے

اسلام آباد میں فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن (ایف ڈی آئی ) کی دو خاتون ملازمین نے مبینہ ہراسیت، کردار کشی، امتیازی سلوک، اختیارات کے ناجائز استعمال اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسیت سے رجوع کرلیا ہے۔

 

درخواست گزار ڈیٹا اسسٹنٹس عظمیٰ محب اور فیضہ نبیل نے اپنی درخواست میں نائب قاصد سید عقیل عباس اور ایڈمن آفیسر جعفر شاہ کو نامزد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں دفتر میں مسلسل ہراسانی، تحقیر آمیز رویے اور کردار کشی کا سامنا رہا۔

 

درخواست کے مطابق نائب قاصد عقیل عباس نے مبینہ طور پر ایک خاتون ملازمہ کے شوہر کو فون کرکے نازیبا گفتگو کی اور دونوں خواتین کے کردار سے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔

 

خاتون ملازمین نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ عقیل عباس اور جعفر شاہ کی جانب سے ان کی جسمانی ساخت کے بارے میں بار بار تحقیر آمیز جملے کسے جاتے رہے، جس سے انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

 

 

ہاؤس ہائرنگ فائل روکنے اور غیر اخلاقی شرط لگانے کا الزام

 


درخواست میں ایڈمن آفیسر جعفر شاہ پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

 

عظمیٰ محب کے مطابق ان کی ہاؤس ہائرنگ سے متعلق فائل مبینہ طور پر روک لی گئی اور فائل پراسیس کرنے کے بدلے دفتر آکر ساتھ چائے پینے کی شرط رکھی گئی۔

 

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد مبینہ ہراسیت، امتیازی سلوک اور انتقامی رویے میں مزید اضافہ ہوگیا۔

 

 

شدید سرد فریزر رومز میں ڈیوٹی لگانے کا الزام

 


خاتون ملازمین نے الزام لگایا ہے کہ انکار کی پاداش میں انہیں منفی 15 سے منفی 25 ڈگری درجہ حرارت والے فریزر رومز میں سخت ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا۔

 

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات انہیں دباؤ میں لانے اور سزا دینے کے لیے کیے گئے۔

 

 

انکوائری اور سکیورٹی عملے سے متعلق بھی الزامات

 


درخواست میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انکوائری افسر کے سامنے پیشی سے بچانے کے لیے ایک نامزد شخص کو مبینہ طور پر دفتر سے غائب کروایا گیا۔

 

خاتون ملازمین کے مطابق سیکیورٹی سپروائزر کے ذریعے مین گیٹ پر ان کی گاڑی روکی گئی اور ان کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔

 

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان تمام واقعات کے باعث ان کے لیے دفتر کا ماحول غیر محفوظ اور ذہنی دباؤ کا باعث بن چکا ہے۔

 

 

وفاقی محتسب سے شفاف انکوائری اور تحفظ کی اپیل

 


عظمیٰ محب اور فیضہ نبیل نے وفاقی محتسب سے معاملے کی غیر جانب دار اور شفاف انکوائری کرانے، مبینہ ہراسیت اور انتقامی کارروائیوں کی تحقیقات کرنے اور انہیں کام کی جگہ پر مناسب تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

 

خاتون ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی شکایات کو قانون کے مطابق سنا جائے اور اگر الزامات ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 

واضح رہے کہ درخواست میں عائد الزامات درخواست گزار خواتین کا مؤقف ہیں، اور ان کی حتمی صداقت کا تعین متعلقہ فورم کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں