6 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش، ملزم کو 14 سال قید کی سزا
لاہور کی خصوصی عدالت برائے انسدادِ زیادتی نے چھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر ملزم اصغر کو 14 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
ایڈیشنل سیشن جج ظفر یاب چدھڑ نے مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سنایا۔
مقدمہ 24 مارچ 2025 کو لاہور کے تھانہ ساؤتھ کینٹ میں متاثرہ بچی کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق بچی کے والد 23 مارچ کی شام گھر پہنچے تو ان کی چھ سالہ بیٹی نے انہیں واقعے سے متعلق آگاہ کیا۔ والد کے بیان کے مطابق محلے دار اصغر بچی کو اپنے گھر لے گیا تھا، جہاں اس نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی، تاہم بچی کے شور مچانے پر ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔
پولیس نے مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 377-B شامل کی، جو 18 سال سے کم عمر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق ہے۔
قانون کے تحت یہ ناقابلِ ضمانت جرم ہے اور اس میں کم از کم 14 سال جبکہ زیادہ سے زیادہ 20 سال قید کی سزا مقرر ہے۔
تفتیش مکمل ہونے کے بعد مقدمہ خصوصی عدالت برائے انسدادِ زیادتی کو بھجوایا گیا، جہاں 7 جولائی 2025 کو ملزم پر فردِ جرم عائد کی گئی۔
ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کیا، جس کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع کیا گیا۔
سینئر پراسیکیوٹر رضوان محمود کے مطابق مقدمے کے دوران مجموعی طور پر 8 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ میڈیکل رپورٹ اور دیگر شواہد بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے۔
عدالت نے گواہوں کے بیانات، میڈیکل رپورٹ، دستیاب شواہد اور دورانِ سماعت سامنے آنے والے مواد کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو قصوروار قرار دیا۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم اصغر کو 14 سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی۔