ٹنڈو آدم، والد کے ساتھ نمازِ جمعہ کے لیے آئی 5 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل
سندھ کے شہر ٹنڈو آدم میں والد کے ساتھ نمازِ جمعہ کے لیے آنے والی 5 سالہ بچی کو مبینہ زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا، جبکہ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جس نے دورانِ تفتیش جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
دوسری جانب بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سرکاری ہسپتال منتقل کی گئی تو وہاں ضروری طبی سامان اور ادویات کی عدم دستیابی کا انکشاف ہوا، جس پر انتظامیہ نے سامان باہر سے منگوانے کی پرچی والدین کو تھما دی اور ورثا نے شدید احتجاج کیا۔
پولیس اور مقامی ذرائع کے مطابق 5 سالہ بچی اپنے والد کے ہمراہ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے پرانے تبلیغی مرکز گئی تھی، جہاں سے وہ اچانک لاپتہ ہوگئی۔
بچی کے لاپتا ہونے کے بعد اہلِ خانہ اور مقامی افراد نے اس کی تلاش شروع کی، تاہم کچھ دیر بعد اس کی لاش پرانے تبلیغی مرکز اور قریبی مدرسے کے علاقے سے برآمد ہوئی۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر پولیس نے ایس ایس پی سانگھڑ کی نگرانی میں تحقیقات شروع کیں اور کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، تاہم پولیس کے اس دعوے اور دیگر شواہد کا حتمی جائزہ عدالت میں کیا جائے گا۔
ابتدائی طبی معلومات کے مطابق بچی کی موت دم گھٹنے کے باعث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بچی کی آواز دبانے کے لیے اس کے منہ میں کاغذ ٹھونسا گیا، جس کے باعث اس کا دم گھٹ گیا اور وہ جانبر نہ ہوسکی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوتوں کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
واقعے کے بعد بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے ٹنڈو آدم کے سرکاری اسپتال منتقل کی گئی، جہاں ایک اور افسوسناک صورتحال سامنے آئی۔
ورثا کے مطابق اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے لیے درکار بنیادی طبی سامان اور ادویات دستیاب نہیں تھیں، جس پر اسپتال انتظامیہ نے ضروری سامان باہر سے خرید کر لانے کے لیے پرچی بچی کے والدین کے حوالے کردی۔
اسپتال انتظامیہ کے رویے اور طبی سامان کی عدم دستیابی پر متاثرہ خاندان اور مقامی شہری شدید مشتعل ہوگئے اور انہوں نے اسپتال کے باہر احتجاج شروع کردیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ کمسن بچی کے قتل کے بعد خاندان پہلے ہی شدید صدمے سے دوچار ہے، اس کے باوجود پوسٹ مارٹم جیسے بنیادی قانونی عمل کے لیے بھی والدین کو طبی سامان باہر سے خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
ورثا کے مطابق لیڈی ڈاکٹر بھی کئی گھنٹے کی تاخیر کے بعد اسپتال پہنچی، جس کے باعث پوسٹ مارٹم کے عمل میں مزید تاخیر ہوئی۔
مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ سرکاری اسپتال کو لاکھوں روپے کے فنڈز ملنے کے باوجود پوسٹ مارٹم کے لیے ضروری طبی سامان اور ادویات کیوں موجود نہیں ہیں۔
مقامی شہریوں اور متاثرہ خاندان نے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال میں مبینہ غفلت، طبی سامان کی عدم دستیابی اور پوسٹ مارٹم میں تاخیر کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
واقعے کے بعد ٹنڈو آدم میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ مقامی عمائدین اور شہریوں نے کمسن بچی کے قتل میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور تمام طبی، فرانزک اور دیگر شواہد اکٹھے کرکے عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔