Pakistan

تھرپارکر میں نایاب چنکارا زخمی، پولیس اور محکمہ جنگلی حیات ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے لگے

تھرپارکر میں نایاب چنکارا زخمی، پولیس اور محکمہ جنگلی حیات ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے لگے
۱۰ گھنٹے پہلے

تھرپارکر کے سینکچوری زون میں چھوڑے جانے والے نایاب چنکارا ہرن کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی نکلی، جس کے بعد پولیس اور محکمہ جنگلی حیات نے ایک دوسرے پر الزام عائد کردیا۔

 

اسسٹنٹ کنزرویٹر وائلڈ لائف کے مطابق محکمہ جنگلی حیات کی ٹیم اتوار کی صبح ہرن کو چیلہار تھانے لے گئی تھی، جہاں پولیس کے تعاون سے اسے قریبی سینکچوری زون میں چھوڑا جانا تھا۔

 

 ان کا الزام ہے کہ پولیس نے ہرن کو اپنی تحویل ظاہر کرنے کے لیے لاک اپ میں رکھا اور ویڈیو بنانے کی کوشش کی۔ 

 

اسی دوران ہرن نے چھلانگ لگائی، جس سے اس کی ایک ٹانگ مہرے سے اکھڑ گئی۔

 

محکمہ جنگلی حیات کے افسر کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ تک ہرن ان کی تحویل میں رہا اور اس دوران وہ مکمل طور پر صحت مند تھا۔ 

 

ان کے مطابق ہرن کو تھانے کے لاک اپ سے وائلڈ لائف کی گاڑی میں منتقل کرنے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔

 

 زخمی ہرن کو واپس وائلڈ لائف اسٹیشن منتقل کردیا گیا ہے جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

 

دوسری جانب چیلہار تھانے کے ایس ایچ او نے پولیس لاک اپ میں ہرن کی ٹانگ ٹوٹنے کے الزام کو مسترد کردیا۔ 

 

پولیس کا مؤقف ہے کہ محکمہ جنگلی حیات کے اہلکار ہرن کو صبح تھانے لائے تھے اور اس کی ٹانگ پولیس کی تحویل میں نہیں ٹوٹی۔

 

واضح رہے کہ نایاب چنکارا ہرن کو رواں سال 11 اپریل کو چیلہار کے قریب شکاریوں سے بازیاب کرایا گیا تھا۔ 

 

مٹھی کی عدالت نے ہرن کو سینکچوری زون میں چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ اس کی رہائی کی ویڈیو بطور ثبوت 17 ستمبر کو پیش کرنے کی ہدایت بھی کی تھی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں