Pakistan

گوجر خان، 8 سالہ یتیم بچہ زیادتی کے بعد قتل، ٹانگیں توڑ کر کنویں میں پھینک دیا

گوجر خان، 8 سالہ یتیم بچہ زیادتی کے بعد قتل، ٹانگیں توڑ کر کنویں میں پھینک دیا
۱ دن پہلے

گوجر خان کے علاقے ڈھوک علی شان میں 8 سالہ یتیم بچے محمد آیان کے قتل کے واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کردیا، جبکہ ابتدائی اطلاعات میں بچے کے ساتھ مبینہ جنسی تشدد اور شدید جسمانی تشدد کے بعد قتل کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ 

 

واقعے کے بعد راولپنڈی پولیس کے اعلیٰ حکام نے نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور سائنسی و فرانزک ذرائع استعمال کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق 8 سالہ محمد آیان منگل کے روز اپنے گھر سے اچانک لاپتا ہوگیا تھا، جس کے بعد اس کے ماموں غفار احمد قریشی نے تھانہ گوجر خان میں بچے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔

 

اہلِ خانہ اور پولیس کی جانب سے تلاش کے دوران اگلے روز محمد آیان کی لاش گھر کے قریب واقع ایک سنسان کنویں سے برآمد ہوئی۔

 

ابتدائی اطلاعات کے مطابق معصوم آیان کو پہلے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر سر پر کلہاڑی کے وار کرکے قتل کیا گیا۔ ٹانگیں توڑ کر لاش کو بوری میں بند کیا گیا اور اینٹیں ڈال کر کنویں میں پھینک دیا گیا۔

 

محمد آیان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو پہلے ہی کئی صدمات سے گزر چکا تھا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق اس کے والد تقریباً چار سال قبل انتقال کرگئے تھے، جبکہ اس کا ایک کمسن بھائی بھی ایک حادثے میں جاں بحق ہوچکا تھا۔

 

واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور شہریوں نے مطالبہ کیا کہ محمد آیان کے قتل میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

 

سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی ڈی آئی جی حسن مشتاق سکھیرانی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈھوک علی شان میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔

 

سی پی او نے اے ایس پی گوجر خان سید دانیال حسن اور دیگر پولیس حکام سے تحقیقات سے متعلق بریفنگ لی اور ہدایت کی کہ کیس میں تمام دستیاب سائنسی، فرانزک اور جدید تفتیشی وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

 

پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام ممکنہ محرکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ مشتبہ افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

 

سی پی او راولپنڈی نے تفتیشی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ کیس کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور قتل میں ملوث افراد کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم، فرانزک شواہد اور دیگر تفتیشی مواد کی روشنی میں قتل اور مبینہ جنسی تشدد سے متعلق حقائق واضح کیے جائیں گے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں