فلپائن کے مسلم اکثریتی خود مختار علاقے بانگسامورو میں پہلے پارلیمانی انتخابات
فلپائن کے مسلم اکثریتی خود مختار علاقے بانگسامورو میں تاریخ کے پہلے پارلیمانی انتخابات کے لیے 14 ستمبر 2026 کو ووٹنگ کا آغاز ہوگیا، جسے خطے میں طویل شورش کے خاتمے، پائیدار امن اور سیاسی خود مختاری کی جانب ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
فلپائن مجموعی طور پر ایک کیتھولک اکثریتی ملک ہے، تاہم جنوبی جزیرے منڈاناؤ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مورو نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اس خطے میں خود ارادیت اور علیحدگی کے لیے 1970 کی دہائی سے مسلح شورش جاری رہی، جس کے نتیجے میں 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔
اس طویل تنازع کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت 2014 میں اس وقت ہوئی جب فلپائن کی مرکزی حکومت اور سب سے بڑے مسلم علیحدگی پسند گروپ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ، یعنی MILF، کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے تحت MILF نے علیحدہ ریاست کے مطالبے سے دستبرداری اختیار کی، جبکہ حکومت نے خطے کے مسلمانوں کو وسیع سیاسی اور اقتصادی خود مختاری دینے پر اتفاق کیا۔
2019 میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں باقاعدہ طور پر بانگسامورو خود مختار خطہ، یعنی BARMM، قائم ہوا۔ تاہم اس کے بعد سے خطے میں منتخب حکومت کے بجائے مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے سابق رہنماؤں پر مشتمل عبوری اتھارٹی، جسے BTA کہا جاتا ہے، انتظامی امور چلاتی رہی۔
بانگسامورو میں پہلے پارلیمانی انتخابات 2022 میں ہونا تھے، لیکن کورونا وبا اور انتخابی قوانین، یعنی Electoral Code، کی عدم موجودگی کے باعث انہیں پہلے 2025 تک مؤخر کیا گیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے بعض فیصلوں اور انتخابی اضلاع کی نئی حد بندی سے متعلق تنازعات کے باعث انتخابات مزید ملتوی ہوتے رہے، جس کے بعد بالآخر ستمبر 2026 میں خطے کے پہلے پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکا۔
انتخابات کے دوران ممکنہ بدامنی سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور 20 ہزار سے زائد پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔ اس کے باوجود ووٹنگ کے موقع پر فائرنگ اور دیگر پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے۔
الیکشن کی صبح اور اس سے ایک روز قبل پیش آنے والے فائرنگ اور جھڑپوں کے واقعات میں کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 15 سے زائد زخمی ہوئے۔
کوٹاباٹو سٹی میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر بااثر سیاسی خاندانوں اور مختلف گروہوں کے مسلح حامیوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ووٹرز میں بھگدڑ مچ گئی اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
فلپائن نیشنل پولیس کے مطابق باسیلان اور ماگوئنداناؤ سمیت مختلف علاقوں میں فائرنگ کے علاوہ 3 دھماکے بھی رپورٹ ہوئے۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ایک دیسی ساختہ بم، یعنی IED، بھی برآمد کرکے ناکارہ بنایا۔
صورتحال اس وقت مزید حساس ہوگئی جب بیلٹ پیپرز چھیننے کی کوششیں بھی سامنے آئیں۔ سنگین واقعات کے بعد فلپائن کے الیکشن کمیشن، COMELEC، نے کوٹاباٹو سٹی اور باسیلان کے علاقے مالوسو کا انتظام براہِ راست اپنے کنٹرول میں لے لیا تاکہ انتخابی عمل کو جاری رکھا جاسکے۔
ان انتخابات میں بانگسامورو پارلیمنٹ کی 80 نشستوں کے لیے امیدوار میدان میں ہیں۔ بنیادی مقابلہ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے ان سابق جنگجوؤں کے درمیان ہے جو اب سیاسی جماعت کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں، ان سے الگ ہونے والے دھڑوں اور خطے میں طویل عرصے سے سیاسی و معاشی اثر و رسوخ رکھنے والے طاقتور اور امیر روایتی سیاسی خاندانوں کے درمیان ہے۔
عالمی مبصرین کے نزدیک بانگسامورو کے یہ پہلے پارلیمانی انتخابات صرف ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ فلپائن میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی مسلم شورش کے خاتمے اور جمہوری اداروں کے ذریعے امن کو مستحکم کرنے کا ایک بڑا امتحان ہیں۔