فلپائن کے مسلم اکثریتی علاقے میں پہلے انتخابات، بنگسامورو فیڈرلسٹ پارٹی کو برتری
فلپائن کے مسلم اکثریتی خودمختار علاقے بنگسامورو میں ہونے والے پہلے تاریخی پارلیمانی انتخابات میں بنگسامورو فیڈرلسٹ پارٹی اور یونائیٹڈ بنگسامورو جسٹس پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ 98.4 فیصد انتخابی نتائج موصول ہو چکے ہیں، جن میں بنگسامورو فیڈرلسٹ پارٹی کو برتری حا صل ہے تاہم حتمی سرکاری نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
بنگسامورو کے تاریخی انتخابات
فلپائن کے جنوبی حصے میں قائم بنگسامورو خودمختار خطہ برائے مسلم منڈاناؤ میں 14 ستمبر 2026 کو پہلی مرتبہ باقاعدہ پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے۔ یہ انتخابات کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی مسلح شورش، علیحدگی پسند تحریک اور امن عمل کے بعد خطے کو منتخب جمہوری حکومت کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کا اہم مرحلہ قرار دیے جا رہے ہیں۔
بنگسامورو کو 2014 کے امن معاہدے کے بعد وسیع تر خودمختاری دینے کا راستہ ہموار ہوا۔ اس معاہدے میں فلپائن کی حکومت اور ملک کی سب سے بڑی مسلم علیحدگی پسند تنظیم مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے درمیان طویل مذاکرات شامل تھے۔ بعد ازاں 2018 کے قانون اور 2019 کے ریفرنڈم کے ذریعے موجودہ خودمختار خطے کی بنیاد مضبوط ہوئی۔
اس خطے میں تقریباً 4.5 ملین افراد آباد ہیں، جبکہ تقریباً 2.4 ملین ووٹرز پارلیمانی انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔
بنگسامورو فیڈرلسٹ پارٹی اور یونائیٹڈ بنگسامورو جسٹس پارٹی میں سخت مقابلہ
تازہ ترین جزوی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 98.4 فیصد انتخابی نتائج موصول ہو چکے ہیں۔ انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 5,129 انتخابی نتائج موصول ہوئے جبکہ 83 نتائج ابھی باقی تھے۔
اب تک:
بنگسامورو فیڈرلسٹ پارٹی: 660,464 ووٹ
یونائیٹڈ بنگسامورو جسٹس پارٹی: 609,078 ووٹ
بارہ ایم ایم گرینڈ کولیشن: 386,033 ووٹ
دیگر جماعتیں ان دونوں بڑی جماعتوں سے خاصی پیچھے ہیں۔
بنگسامورو فیڈرلسٹ پارٹی کو اس وقت تقریباً 51 ہزار ووٹوں کی برتری حاصل ہے، لیکن چونکہ کچھ نتائج ابھی باقی ہیں، اس لیے حتمی سیاسی تصویر تبدیل ہونے کا امکان موجود ہے۔
پارلیمانی جماعتی نشستوں کے لیے کسی جماعت کو متناسب نمائندگی کے تحت اہل ہونے کے لیے کم از کم 2.5 فیصد مجموعی درست ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔
80 نشستوں والی پارلیمنٹ
ان انتخابات میں مجموعی طور پر 80 پارلیمانی نشستیں داؤ پر ہیں۔ ان میں:
40 نشستیں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کے لیے
32 نشستیں پارلیمانی اضلاع کے نمائندوں کے لیے
8 نشستیں مختلف شعبہ جاتی نمائندگی کے لیے
رکھی گئی ہیں۔
بنگسامورو کا نظام فلپائن کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے کیونکہ یہاں پارلیمانی طرز حکومت قائم کیا گیا ہے۔ منتخب ارکانِ پارلیمنٹ اپنے درمیان سے چیف منسٹر کا انتخاب کریں گے۔ یعنی عوام براہ راست چیف منسٹر کا انتخاب نہیں کرتے۔
80 فیصد سے زیادہ ٹرن آؤٹ
انتخابات کی ایک بڑی خصوصیت غیر معمولی طور پر زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ بھی رہا۔ حکام کے مطابق تقریباً 80 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ووٹ ڈالے، جو خطے کے لیے خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ انتخابات برسوں کی تاخیر کے بعد منعقد ہوئے۔
اتنی بڑی تعداد میں ووٹرز کی شرکت کو خطے کے عوام کی جمہوری عمل میں دلچسپی اور اپنے مستقبل کے سیاسی نظام کے حوالے سے اہمیت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
سخت سکیورٹی کے باوجود تشدد
انتخابات کے دوران سیکیورٹی ایک بڑا چیلنج بنی رہی۔ فلپائن کی حکومت نے ممکنہ مسلح تصادم، سیاسی کشیدگی اور مقامی دھڑوں کے درمیان جھڑپوں کے خدشے کے پیش نظر 20 ہزار سے زائد فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کیے تھے۔اس کے باوجود انتخابی تشدد کے واقعات پیش آئے۔
ابتدائی رپورٹس میں انتخابی عمل کے دوران اور اس سے قبل متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ رائٹرز کے مطابق انتخابات کے آغاز سے پہلے تشدد میں 3 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے تھے، جبکہ بعد کی رپورٹنگ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 5 بتائی گئی۔
کوٹاباٹو شہر میں ایک پولنگ اسٹیشن پر کشیدگی کے بعد فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے شہر میں مداخلت کرتے ہوئے انتخابی عمل کی نگرانی اپنے ہاتھ میں لے لی۔ سیاسی حامیوں کے درمیان جھڑپوں اور مخالف سیاسی امیدوار سے وابستہ گاڑیوں کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
بیسلان میں ووٹنگ دوسرے دن تک جاری
انتخابی عمل میں ایک اور اہم مسئلہ بیسلان کے علاقے مالوسو میں سامنے آیا، جہاں بعض بیلٹ پیپرز پہلے سے پُر یا نشان زدہ پائے گئے۔ اس معاملے کے بعد حکام نے متاثرہ پولنگ اسٹیشنز میں نئے بیلٹ پیپرز چھاپنے کا فیصلہ کیا۔
نتیجتاً مالوسو کے 86 میں سے 36 پولنگ مراکز میں ووٹنگ دوسرے دن تک بڑھانا پڑی تاکہ تقریباً 16 ہزار متاثرہ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔
یہ انتخابات اتنے اہم کیوں ہیں؟
بنگسامورو کے لیے یہ صرف عام انتخابات نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط تنازع کے بعد سیاسی منتقلی کا عملی امتحان ہیں۔
جنوبی فلپائن میں 1970 کی دہائی سے جاری شورش نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور نقل مکانی کو جنم دیا۔ 2014 کے امن معاہدے کے تحت مورو اسلامک لبریشن فرنٹ نے ایک آزاد ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہو کر وسیع تر خودمختاری قبول کی، جبکہ اس کے ہزاروں سابق جنگجوؤں کی غیر مسلحی اور سول زندگی میں واپسی کا عمل بھی شروع کیا گیا۔
تاہم مکمل امن کا عمل ابھی بھی چیلنجز سے خالی نہیں۔ مورو اسلامک لبریشن فرنٹ کے بعض جنگجوؤں کی غیر مسلحی کا عمل مکمل نہیں ہوا، جبکہ خطے میں روایتی سیاسی خاندانوں، مقامی طاقتور گروہوں اور مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان مقابلہ بھی برقرار ہے۔
اگلا مرحلہ: حکومت سازی
اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 80 رکنی پارلیمنٹ میں کون سا سیاسی اتحاد اکثریت حاصل کرتا ہے اور چیف منسٹر کون بنتا ہے۔
موجودہ غیر سرکاری نتائج میں بنگسامورو فیڈرلسٹ پارٹی سب سے آگے جبکہ یونائیٹڈ بنگسامورو جسٹس پارٹی دوسرے نمبر پر ہے، لیکن کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ اس صورت حال میں حکومت سازی کے لیے مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد اور مذاکرات انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔ حتمی فاتحین اور علاقائی حکومت کے ارکان کی باقاعدہ تقرری یا اعلان انتخابی نتائج کی تکمیل کے بعد متوقع ہے۔
یوں بنگسامورو کا پہلا پارلیمانی انتخاب ایک طرف جمہوری خوداختیاری کی جانب تاریخی قدم ہے، تو دوسری جانب یہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ کئی دہائیوں کی شورش سے گزرنے والا خطہ منتخب پارلیمانی نظام، سیاسی اتحاد اور پرامن اقتدار کی منتقلی کو کس حد تک کامیابی سے عملی شکل دے سکتا ہے۔