World

سعودی عرب کا حوثیوں کے حملوں کا بھرپور جواب دینے کااعلان

سعودی عرب کا حوثیوں کے حملوں کا بھرپور جواب دینے کااعلان
۱ منٹ پہلے

سعودی عرب نے یمن کی حوثی جماعت انصار اللہ کی جانب سے اپنے مختلف علاقوں پر کیے جانے والے تازہ میزائل اور ڈرون حملوں کا بھرپور اور سخت جواب دینے کا اعلان کردیا ہے۔ سعودی اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ شہری آبادیوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا حوثیوں کی اشتعال انگیز پالیسی کا ثبوت ہے، جس کے خلاف تمام ضروری دفاعی اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

 

سعودی اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ اتحادی افواج سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں اور شہری املاک کے تحفظ کے لیے حملوں کا ذمہ داری اور بھرپور عزم کے ساتھ جواب دیں گی۔ ان کے مطابق ممکنہ کارروائی اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حقِ دفاع اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہوگی۔

 

حوثیوں نے پیر کے روز دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں واقع کنگ خالد ایئر بیس کو درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حوثیوں کے مطابق حملوں کا ہدف طیاروں کے ہینگرز، ریڈار نظام، رن ویز اور اسلحے کے گودام تھے، جبکہ یہ کارروائی یمن میں سعودی فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

 

سعودی فوجی اتحاد کے مطابق خمیس مشیط، ابہا اور طائف سمیت جنوبی سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو معمولی سے درمیانے درجے کے زخم آئے، جبکہ حملوں میں 7 رہائشی مکانات اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

 

سعودی حکام نے حملوں کے بعد خمیس مشیط، ابہا اور جنوبی سعودی عرب کے دیگر متاثرہ علاقوں میں ہنگامی انتباہات جاری کیے۔ اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ شہری آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی یہ کارروائیاں حوثیوں کی جانب سے کشیدگی بڑھانے کے رجحان کو ظاہر کرتی ہیں۔

 

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ سعودی فضائی کارروائیوں کے دوران یمن کے صوبوں تعز، لحج، الجوف، مأرب اور حجہ کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں نے گزشتہ چند روز کے دوران سعودی عرب کے مختلف علاقوں، بالخصوص یمن کی سرحد سے ملحق جنوبی علاقوں میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے متعدد دعوے بھی کیے ہیں۔

 

ادھر عدن میں موجود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے 2 فوجی ذرائع نے بتایا کہ مأرب اور الجوف کے درمیان سرکاری فورسز کی پوزیشنوں پر حوثیوں کے میزائل حملوں میں 8 فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

 

یمن میں گزشتہ چند روز کے دوران لڑائی میں نمایاں شدت دیکھی گئی ہے۔ حوثیوں نے ریاض کی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے خلاف پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں توسیع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حوثی فورسز نے باب المندب کی سٹریٹیجک گزرگاہ کے قریب اچانک کارروائی کے بعد بحیرۂ احمر سے متصل یمن کے پورے مغربی ساحل پر قبضہ کرلیا ہے۔

 

سعودی عرب 2015 سے حوثیوں کے خلاف قائم فوجی اتحاد کی قیادت کررہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں جنگ بندی کے باعث لڑائی بڑی حد تک کم ہوگئی تھی۔ رواں ماہ دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں میں حوثیوں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی دستوں کو پسپا کردیا۔

 

حالیہ کشیدگی کے تناظر میں بحیرۂ احمر سعودی عرب کے لیے مزید اہم ہوگیا ہے، کیونکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی محدود کیے جانے کے باعث سعودی عرب کے مشرقی علاقوں سے تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ متاثر ہورہا ہے۔ سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے مشرق سے مغرب تک جانے والی اپنی ایک اہم تیل پائپ لائن کی سرگرمیاں بھی معطل کردی تھیں، جسے فضائی حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاع تھی۔ سعودی حکام کے مطابق یہ حملہ عراق سے کیا گیا تھا۔

 

دوسری جانب ایران نے یمن کی حالیہ لڑائی میں کسی بھی قسم کے کردار کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ ایران یمن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔ ان کے مطابق حوثی مکمل طور پر خودمختار ہیں اور اپنے فیصلے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔

 

سعودی اتحادی افواج نے واضح کیا ہے کہ مزید حملوں کی روک تھام اور حوثیوں کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری فوجی اور دفاعی اقدامات کیے جائیں گے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں