Business

رواں مالی سال کی دوسری مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار

رواں مالی سال کی دوسری مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار
۲ گھنٹے پہلے

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کی دوسری مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

مرکزی بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا، جس کی صدارت گورنر اسٹیٹ بینک نے کی۔ سٹیٹ بینک نے گزشتہ مانیٹری پالیسی میں بھی پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔

 

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ آئندہ شرح سود کا رخ مہنگائی کے اعداد و شمار سے طے ہوگا۔ اگست میں ملک میں مہنگائی کی شرح 11.15 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اگر 11.50 فیصد پالیسی ریٹ کے باوجود تیل اور خوراک کی قیمتوں میں دباؤ برقرار رہا تو اسٹیٹ بینک کو اپنی موجودہ مانیٹری پالیسی پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

 

پاکستان کی معیشت پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال بھی شامل ہے، جبکہ عالمی معاشی حالات اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، یعنی آئی ایم ایف، کے ساتھ جاری معاملات بھی معاشی پالیسی کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

 

مانیٹری پالیسی کے اعلان سے قبل بعض معاشی ماہرین نے امکان ظاہر کیا تھا کہ اسٹیٹ بینک شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس تک مزید اضافہ کرسکتا ہے، تاہم مالیاتی شعبے کی اکثریت پہلے ہی اس رائے کا اظہار کر چکی تھی کہ شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رہنے کا زیادہ امکان ہے۔

 

اسٹیٹ بینک کا درمیانی مدت کا مہنگائی ہدف 5 سے 7 فیصد ہے، جبکہ حالیہ مہنگائی اس ہدف سے کافی اوپر ہے۔

 

اسٹیٹ بینک کی اگست 2026 کی مانیٹری پالیسی رپورٹ کے مطابق جولائی میں سالانہ مہنگائی 9.2 فیصد رہی تھی، جبکہ خوراک کی قیمتوں میں توقع سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔

 

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گندم اور متعلقہ اشیا کی قیمتوں اور خراب ہونے والی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے مہنگائی پر دباؤ بڑھایا۔ گندم کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہ میں خریداری سے متعلق مسائل، قیمتوں میں اصلاحات اور مارکیٹ میں رسد سے متعلق رکاوٹیں شامل تھیں۔

 

سٹیٹ بینک کے مطابق آگے چل کر یہ غذائی دباؤ کچھ کم ہوسکتا ہے، خصوصاً اگر حکومت سپلائی کے خلا کو پورا کرنے کے لیے گندم کی درآمد کے اقدامات کرتی ہے۔

 

مرکزی بینک نے اپنی تازہ رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مہنگائی مالی سال 2027 کے اختتام کی جانب 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی بالائی حد کے قریب آکر مستحکم ہوسکتی ہے۔

 

شرح سود کو برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک فی الحال مزید مانیٹری سختی یا فوری شرح سود میں کمی کے بجائے موجودہ پالیسی کو برقرار رکھ کر مہنگائی اور معاشی سرگرمیوں کے اثرات کا جائزہ لینا چاہتا ہے۔

 

دوسری جانب عالمی تیل کی قیمتیں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پاکستان کے لیے اہم خطرہ ہیں، کیونکہ تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، ٹرانسپورٹ اور توانائی کی لاگت بڑھ سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں مہنگائی پر دوبارہ دباؤ آسکتا ہے۔ حالیہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی جغرافیائی کشیدگی کے باعث بلند رہی ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں