پاکستان ہاکی ٹیم کو بھارت میں ایشین چیمپئنز ٹرافی میں شرکت کی اجازت مل گئی
بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ بھگونت مان نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو آئندہ ماہ بھارت میں ہونے والی مردوں کی ایشین چیمپئنز ٹرافی ہاکی میں شرکت کی اجازت مل گئی ہے۔
بھگونت مان کا کہنا ہے کہ کثیر ملکی کھیلوں کے مقابلوں میں پاکستان کی شرکت پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں بھارت اور پاکستان کے درمیان انفرادی دو طرفہ سیریز کا انعقاد ممکن نہ ہونے کا امکان ہے۔
پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نے ایشین چیمپئنز ٹرافی کے کامیاب انعقاد کے لیے اپنی حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پنجاب پہلی مرتبہ اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کر رہا ہے اور اسے کامیاب بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب بھارتی ہاکی کے سیکریٹری جنرل بھولا ناتھ سنگھ نے پاک بھارت ہاکی تعلقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی ہاکی فیڈریشنز کے درمیان تعلقات بہترین ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے کھلاڑی بھی ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور کھیل کے میدان میں اس باہمی احترام کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔
ایشین چیمپئنز ٹرافی 27 اکتوبر سے 5 نومبر تک جاری رہے گی، جس میں بھارت، پاکستان، چین، جاپان، ملائیشیا اور جنوبی کوریا کی ٹیمیں شریک ہوں گی۔
ٹورنامنٹ کے لیگ مرحلے کے تمام میچز جالندھر میں کھیلے جائیں گے، جبکہ سیمی فائنلز اور فائنل موہالی کے ہاکی اسٹیڈیم میں ہوں گے۔ عمان اور بنگلا دیش کو متبادل ٹیموں کے طور پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی شریک ٹیم کے دستبردار ہونے کی صورت میں انہیں ٹورنامنٹ میں شامل کیا جاسکے۔
بھارت ٹورنامنٹ میں دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے اترے گا۔ بھارتی ٹیم نے 2023ء میں چنئی میں جبکہ 2024ء میں چین کے شہر ہولون بوئیر میں ایشین چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل جیتا تھا۔
ایشین ہاکی فیڈریشن کے زیر اہتمام ہونے والا یہ سالانہ ٹورنامنٹ گزشتہ سال منعقد نہیں ہوسکا تھا۔