Breaking News

سانحہ پمز: ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے، 24 گھنٹوں میں ایف آئی آر کی ہدایت

سانحہ پمز: ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے، 24 گھنٹوں میں ایف آئی آر کی ہدایت
۱ گھنٹے پہلے

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سانحہ پمز پر تفصیلی بحث کے دوران ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں تاخیر پر سخت سوالات اٹھائے گئے۔ کمیٹی نے واقعے کے ذمہ دار افراد، جن میں سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز بھی شامل ہیں، کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کردی۔

 

اجلاس میں جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اقبال درانی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے بعد سکیورٹی کمپنی اور مانیٹرنگ کمیٹی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ متعلقہ افراد کو شوکاز نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں جبکہ پمز میں قائم انکوائری کمیٹی نے بھی متعلقہ افراد کو نوٹسز جاری کیے ہیں۔

 

سینیٹر ثمینہ زہری نے سوال کیا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے باوجود 8 افسران کے خلاف اب تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی۔ وزارت صحت کے ایڈیشنل سیکریٹری نے جواب دیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم وہاں سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔

 

اس جواب پر سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزارت صحت خود مدعی ہے تو ایف آئی آر کے لیے وزارت داخلہ کو درخواست کیوں بھیجی جا رہی ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ وزارت صحت خود کارروائی کرنے کے بجائے ’پوسٹ مین‘ کا کردار کیوں ادا کر رہی ہے۔ سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے مطالبہ کیا کہ وزارت صحت خود مدعی بنے اور ایف آئی آر درج کروائے۔

 

اجلاس میں بچوں کی حوالگی اور ڈی این اے ٹیسٹ کے معاملے پر بھی اہم سوالات اٹھائے گئے۔ سینیٹر مسرور نے کہا کہ ان معاملات سے متعلق معلومات چھپائی جا رہی ہیں اور استفسار کیا کہ بچوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر اہلخانہ کے حوالے کیسے کیا گیا۔

 

اس موقع پر ڈاکٹر عنیزہ جلیل نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے بچوں کو خود دیکھا تھا۔ ان کے مطابق بچوں کے نام کے ٹیگز اور پمپر موجود تھے، جبکہ انہوں نے 10 لاشیں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں جو جلی ہوئی نہیں تھیں۔

 

سینیٹر ثمینہ زہری نے مزید بتایا کہ پولیس کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ 2 مرتبہ طلب کی گئی، تاہم ڈاکٹر عنیزہ جلیل کے مطابق انہیں تاحال پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں