Pakistan

کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب کی منی لانڈرنگ کاسکینڈل، نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل

کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب  کی منی لانڈرنگ کاسکینڈل، نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل
۵ دن پہلے

کال سینٹرز کے ذریعے مبینہ طور پر 172 ارب روپے کے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل فراڈ اور منی لانڈرنگ کا  2 سال قبل سامنے آنے والا  سکینڈل ایک بار پھر زندہ ہوگیا ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے معاملے کی ازسرنو اور جامع تحقیقات کے لیے 9 رکنی نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے، جبکہ ابتدائی تحقیقات میں بعض اہم سرکاری افسران کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کا پہلو بھی سامنے آیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق 2025 میں کال سینٹرز کے ذریعے شہریوں سے مبینہ جعل سازی کرنے والے ایک منظم نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا تھا۔ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فراڈ کے ذریعے حاصل کی جانے والی خطیر رقم کو مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔

 

ابتدائی تفتیش کے مطابق مبینہ جعل سازی سے حاصل ہونے والی تقریباً 172 ارب روپے کی رقم کو منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے مختلف بینکوں اور مائیکرو فنانس اکاؤنٹس کا استعمال کیا گیا، جبکہ بعض رقوم کو جعلی بینک اکاؤنٹس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی بیرون ملک منتقل کیے جانے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں متعدد کمپنیوں اور مالیاتی اکاؤنٹس کے درمیان ہونے والی مشکوک لین دین بھی زیرِ تفتیش ہے۔ متعلقہ ادارے اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کال سینٹرز کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کن افراد اور اداروں تک پہنچی اور اسے قانونی مالیاتی نظام سے باہر منتقل کرنے کے لیے کون سے طریقہ کار استعمال کیے گئے۔

 

اس اسکینڈل کی تحقیقات کو دوبارہ فعال کرتے ہوئے ایف آئی اے نے 9 رکنی نئی جے آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ نئی ٹیم کا مقصد مبینہ ڈیجیٹل فراڈ کے پورے نیٹ ورک، رقم کی منتقلی، استعمال ہونے والے بینک اور مائیکرو فنانس اکاؤنٹس، کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز اور بیرون ملک بھیجی گئی رقوم کا سراغ لگانا ہے۔

 

تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس معاملے میں بعض اہم سرکاری افسران کے ممکنہ کردار کو بھی جانچا جارہا ہے۔ تاہم کسی سرکاری افسر کے ملوث ہونے کا حتمی تعین تحقیقات مکمل ہونے اور شواہد سامنے آنے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔

 

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں غیر قانونی کال سینٹرز اور آن لائن فراڈ کے خلاف کارروائیاں پہلے ہی جاری ہیں۔ 2025 میں بھی غیر قانونی کال سینٹرز اور سائبر فراڈ سے متعلق مختلف تحقیقات میں سرکاری اہلکاروں کے مبینہ کردار کے معاملات سامنے آچکے ہیں۔

 

نئی جے آئی ٹی اب مبینہ فراڈ کے طریقہ کار، کال سینٹرز کے نیٹ ورک، مالیاتی لین دین، مشکوک اکاؤنٹس اور بیرون ملک رقوم کی منتقلی سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید افراد اور اداروں کے کردار کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں