ایران جنگ: امریکی فوج کے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات جاری
امریکی کانگریس کے لیے تیار کی گئی ایک نئی رپورٹ میں ایران کے خلاف جنگ کے دوران امریکی فوج کو پہنچنے والے جانی اور مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کے ذخائر میں آنے والی کمی کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر گولہ بارود استعمال ہونے کے باعث امریکی فوج کے ذخائر متاثر ہوئے، جبکہ انہیں دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانے میں دفاعی پیداوار کی موجودہ صلاحیتیں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
یہ رپورٹ امریکی محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی سربراہی میں تیار کی گئی۔ متعلقہ انسپکٹر جنرل کو 12 مئی 2026 کو ’’لیڈ انسپکٹر جنرل‘‘ مقرر کیا گیا تھا، جبکہ دستاویز میں 30 جون 2026 تک کی صورتحال کا جائزہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی، جسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا، کے دوران استعمال ہونے والے وسیع پیمانے کے گولہ بارود نے امریکی عسکری ذخائر پر نمایاں دباؤ ڈالا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ذخائر کم ہوئے بلکہ مستقبل میں ان کی تیز رفتار دوبارہ فراہمی کے لیے امریکی دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت سے متعلق متعدد مسائل بھی نمایاں ہوئے۔
دفاعی شعبے کی پیداوار سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کو کئی مستقل نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں سالڈ راکٹ موٹروں کی تیاری، جدید دھماکہ خیز مواد اور پروپیلنٹس کی دستیابی اور تربیت یافتہ و ہنرمند افرادی قوت کی کمی شامل ہیں۔
محکمہ دفاع میں ہتھیاروں کی خریداری اور سپلائی کی نگرانی کرنے والے دفتر کے مطابق دفاعی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ فوری طور پر ممکن نہیں اور اس عمل کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔
18 امریکی فوجی ہلاک، 417 زخمی
لیڈ انسپکٹر جنرل کی کانگریس کو پیش کردہ رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے 30 جون 2026 کے دوران ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں میں 11 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ اسی مدت میں 7 اہلکار غیر جنگی واقعات میں جان سے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 417 امریکی فوجی زخمی بھی ہوئے۔
رپورٹ میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا۔ ان ممالک میں امریکی تنصیبات کی سینکڑوں عمارتیں اور دیگر انفراسٹرکچر متاثر یا مکمل طور پر تباہ ہوئے۔
امریکی جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کا نقصان
دستاویز کے مطابق آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی فضائی بیڑے کو بھی نمایاں نقصان اٹھانا پڑا اور متعدد طیارے تباہ یا متاثر ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 4 ایف-15 ای لڑاکا طیارے تباہ ہوئے۔ ان میں سے 3 طیارے اپنی ہی فورسز کی فائرنگ کا نشانہ بنے جبکہ ایک کو دشمن کی کارروائی میں نقصان پہنچا اور وہ تباہ ہوگیا۔
ایک ایف-35 اے لڑاکا طیارہ ایران کے اوپر آپریشن کے دوران دشمن کی فائرنگ سے متاثر ہوا۔ اسی طرح ایک اے-10 طیارہ جنگی تلاش اور امدادی مشن سے واپسی کے دوران نقصان پہنچنے کے بعد تباہ کردیا گیا۔
امریکی فضائیہ کے کے سی-135 ٹینکر طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 7 کے سی-135 طیارے تباہ یا متاثر ہوئے۔ ان میں ایک عراق کی فضائی حدود میں تصادم کے باعث تباہ ہوا، ایک کو نقصان پہنچا جبکہ 5 طیارے سعودی عرب میں ایرانی حملوں کی زد میں آئے۔
فضائی نگرانی کے لیے استعمال ہونے والے ایک ای-3 طیارے کو بھی سعودی عرب میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں نقصان پہنچا، جبکہ ایچ ایچ-60 ڈبلیو ہیلی کاپٹر جنگی تلاش و امداد کی کارروائی کے دوران متاثر ہوا۔
ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز بھی تباہ
رپورٹ کے مطابق ایک ایم کیو-4 سی بغیر پائلٹ فضائی گاڑی بھی گر کر تباہ ہوئی، جبکہ 4 اے ایچ-6 ہیلی کاپٹرز کو اتنا نقصان پہنچا کہ امریکی فورسز نے انہیں خود ہی تباہ کردیا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک اے ایچ-64 ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے اوپر مار گرایا گیا، جبکہ ایک ایم ایچ-60 ہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہوگیا۔
اس کے علاوہ امریکی افواج کے 30 ایم کیو-9 طرز کے نگرانی اور حملہ آور ڈرونز بھی تباہ ہونے کی اطلاع رپورٹ میں شامل کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آپریشن ایپک فیوری نے نہ صرف امریکی فوج کو جانی اور فضائی اثاثوں کے نقصان سے دوچار کیا بلکہ بڑے پیمانے پر گولہ بارود کے استعمال نے امریکی دفاعی ذخائر اور انہیں دوبارہ بھرنے کی صنعتی صلاحیت کے حوالے سے بھی اہم چیلنجز نمایاں کردیے ہیں۔