Breaking News

ریاستی ادارے اختیارات استعمال کرتے وقت آئین کو ہمیشہ مقدم رکھیں، جسٹس امین الدین

ریاستی ادارے اختیارات استعمال کرتے وقت آئین کو ہمیشہ مقدم رکھیں، جسٹس امین الدین
۱ منٹ پہلے

وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے کہا ہے کہ نئے عدالتی سال کا آغاز محض ایک رسمی مرحلہ نہیں بلکہ عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔ ان کے مطابق ریاستی اداروں کو اپنے اختیارات استعمال کرتے وقت آئین کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے، کیونکہ آئینی اصولوں کی پابندی ہی معاشرے میں پائیدار استحکام پیدا کرتی ہے۔

 

نئے عدالتی سال کے آغاز کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے قیام کے مختصر عرصے میں متعدد اہم مقدمات کے فیصلے کیے ہیں اور آئینی نوعیت کے معاملات میں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کررہی ہے۔

 

چیف جسٹس نے واضح کیا کہ آئین میں ریاستی اداروں کے اختیارات اور ان کی حدود متعین کردی گئی ہیں، لہٰذا ہر ادارے کو اپنی ذمہ داریاں آئینی دائرہ اختیار کے اندر رہتے ہوئے انجام دینی چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہری کو انصاف تک رسائی سے محروم نہیں کیا جاسکتا اور بلاامتیاز آئینی انصاف عدالت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔

 

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت اپنی تفویض کردہ آئینی ذمہ داریاں اسی پختگی اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گی اور نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

 

جسٹس امین الدین خان نے عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانے سے اداروں کی استعداد کار بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ عدالتی عمل میں شفافیت بھی بڑھائی جاسکتی ہے۔

 

چیف جسٹس نے بتایا کہ مقدمات کی سماعت کے لیے بنچز کی تشکیل اور کیسز کی تقرری کا عمل شفاف طریقے سے انجام دیا جاتا ہے۔ انہوں نے عدلیہ کی آزادی کو ایک مستحکم معاشرے اور مؤثر نظامِ انصاف کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک دوروں اور مختلف سرگرمیوں کے ذریعے عدالتی شعبے میں باہمی تعاون کو فروغ دیا جارہا ہے، جبکہ بار ایسوسی ایشنز اور دیگر وفود کے وفاقی آئینی عدالت کے دورے بھی اداروں کے درمیان روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

 

چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بار اور بینچ کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ ملک کے نظامِ انصاف کو زیادہ مؤثر اور عوام دوست بنایا جاسکے۔

 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین مسعود چشتی نے چیف جسٹس امین الدین خان کی بطور سربراہ وفاقی آئینی عدالت خدمات کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک نئے آئینی ادارے کے انتظامی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل آسان کام نہیں، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی، توازن اور آئینی بصیرت کے ساتھ انجام دی ہیں۔

 

مسعود چشتی نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں وفاقی آئینی عدالت پاکستان کے آئینی اور قانونی نظام کے لیے رہنما اصول وضع کرنے والا اہم ادارہ بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا سفر آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی سمت میں مسلسل آگے بڑھنا چاہیے۔

 

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے عدالت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سائلین کے لیے جلد از جلد ویڈیو لنک کی سہولت متعارف کرائی جائے، تاکہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے عدالت تک رسائی زیادہ آسان، تیز اور مؤثر بنائی جاسکے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں