اونک کی نئی سمز کی فروخت، اجرا اور تجارتی سرگرمیاں فوری بند کرنے کا حکم
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ کو اپنی ڈیجیٹل ٹیلی کام سروس اونک کی نئی فروخت، ایکٹیویشن، سم اور ای سم کے اجرا، نئی سبسکرپشنز، مارکیٹنگ اور دیگر تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
اتھارٹی نے اپنے اہم ریگولیٹری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ یوفون آپریٹ کرنے والی کمپنی پی ٹی ایم ایل کی اونک سروس کا موجودہ آپریشنل ماڈل موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر کے دائرے میں آتا ہے، اس لیے مطلوبہ ریگولیٹری اجازت اور قابل اطلاق ایم وی این او فریم ورک کی تعمیل کے بغیر اسے موجودہ شکل میں جاری نہیں رکھا جاسکتا۔
تاہم موجودہ صارفین کو اچانک سروس کی بندش سے بچانے کے لیے پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو حکم موصول ہونے کی تاریخ سے 3 ماہ کی محدود مہلت دی ہے۔ یہ مدت صرف موجودہ اونک صارفین کو پی ٹی ایم ایل پر منتقل کرنے کے لیے استعمال کی جاسکے گی اور اس دوران کسی نئی تجارتی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔
پی ٹی اے نے یہ فیصلہ اونک کے اجرا اور آپریشن سے متعلق پی ٹی ایم ایل کی درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد جاری کیا اور اس کے ساتھ مذکورہ درخواست بھی نمٹا دی۔
اونک کو صرف برانڈ قرار دینے کا مؤقف مسترد
اتھارٹی نے تسلیم کیا کہ اونک، پی ٹی ایم ایل کا رجسٹرڈ برانڈ ہے اور اس کے لیے پی ٹی ایم ایل ہی کا نیٹ ورک، اسپیکٹرم اور نمبرنگ وسائل استعمال ہوتے ہیں، تاہم ریگولیٹر کے مطابق اونک کا عملی اور تجارتی ڈھانچہ کسی روایتی برانڈ کے انتظام سے کہیں آگے جاتا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق اونک ایک علیحدہ ڈیجیٹل بنیاد پر قائم سروس کی حیثیت سے کام کررہا ہے، جس کے اپنے خصوصی پیکیجز، الگ صارف انتظام اور بلنگ نظام، مخصوص ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کسٹمر کیئر نظام موجود ہیں۔
اتھارٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایک علیحدہ ادارہ ڈی ٹی ایم ایس صارفین سے براہ راست رابطے کے ساتھ اہم تجارتی امور انجام دے رہا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق ڈی ٹی ایم ایس مارکیٹنگ، نئے صارفین کے حصول، صارف کی شناخت کی تصدیق سے متعلق معاملات، سم کارڈز کی ترسیل، فروخت اور کسٹمر سروسز میں شامل ہے اور صارفین سے براہ راست رابطے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی چلاتا ہے۔
آمدنی میں 55 فیصد شراکت کا انتظام
ریگولیٹر نے بلڈ آپریٹ سروسز معاہدے کے تحت آمدنی کی شراکت کے انتظام کو بھی اہم قرار دیا۔
پی ٹی اے کے مطابق معاہدے کے تحت ابتدائی 3 سال کے دوران ڈی ٹی ایم ایس کو متعلقہ آمدنی کا 55 فیصد حصہ ملنا ہے، جس کے بعد طے شدہ شیڈول کے مطابق یہ حصہ بتدریج کم ہوتا جائے گا۔
اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان تمام آپریشنل اور تجارتی خصوصیات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اونک میں ایم وی این او پالیسی فریم ورک 2025 کے تحت بیان کردہ بنیادی خصوصیات موجود ہیں، چاہے برانڈ کی ملکیت اور بنیادی لائسنس یافتہ نیٹ ورک پی ٹی ایم ایل ہی کے پاس کیوں نہ ہو۔
اسی بنیاد پر پی ٹی اے نے اونک کو ایم وی این او ریگولیٹری فریم ورک کے دائرے میں قرار دیتے ہوئے اس کے موجودہ انتظام کو باقاعدہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ریگولیٹر کے مطابق صرف یہ حقیقت کافی نہیں کہ برانڈ، نیٹ ورک، اسپیکٹرم، نمبرنگ وسائل اور حتمی ریگولیٹری ذمہ داری پی ٹی ایم ایل کے پاس ہے، اس بنیاد پر موجودہ پورے انتظام کو مکمل طور پر ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق قرار نہیں دیا جاسکتا۔
تکنیکی اور سیکیورٹی خدشات
فیصلے میں صارفین کے انتظام، سم اجرا اور صارف کی شناخت کی تصدیق، بلنگ اور صارف انتظام، صارفین کی معلومات اور کال ڈیٹیل ریکارڈز تک رسائی، قانونی مداخلت، ڈیٹا کی مقامی سطح پر محفوظ کاری اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے۔
اس کے علاوہ سروس کے معیار، ڈیزاسٹر ریکوری، کاروباری تسلسل، موبائل نمبر پورٹیبلٹی اور تیسرے فریق سے متعلق انتظامات کو بھی ریگولیٹری تشویش کے اہم نکات میں شامل کیا گیا۔
پی ٹی اے نے بالخصوص کہا کہ ڈیزاسٹر ریکوری اور ہائی اویلیبیلٹی ٹیسٹنگ، ریکوری ٹائم آبجیکٹو، ریکوری پوائنٹ آبجیکٹو تقاضوں اور سروس لیول ایگریمنٹ کی کارکردگی کی آزادانہ تصدیق مکمل طور پر ثابت نہیں کی گئی۔ اسی طرح ڈی ٹی ایم ایس سے متعلق بعض تیسرے فریق کے انتظامات بھی اتھارٹی کے سامنے مکمل طور پر پیش نہیں کیے گئے۔
پی ٹی ایم ایل کے پاس 2 راستے
پی ٹی اے کے فیصلے کے تحت پی ٹی ایم ایل کو ریگولیٹری تقاضے پورے کرنے کے لیے 2 آپشنز دیے گئے ہیں۔
پہلے آپشن کے تحت کمپنی اونک کو واضح طور پر اپنے پروڈکٹ یا برانڈ کی حیثیت سے ازسرنو تشکیل دے سکتی ہے، جو پی ٹی ایم ایل کے موجودہ موبائل نیٹ ورک آپریٹر لائسنس کے تحت کام کرے۔ اس صورت میں کمپنی کو وہ خصوصیات ختم کرنا ہوں گی جو اونک کو آزادانہ طور پر چلنے والی ایم وی این او نوعیت کی سروس بناتی ہیں۔
دوسرے آپشن کے تحت اگر پی ٹی ایم ایل اونک کے موجودہ ایم وی این او طرز کے آپریشنل ڈھانچے کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو متعلقہ کمپنی کو قابل اطلاق ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق باقاعدہ ایم وی این او لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔
7 کاروباری دن میں رپورٹ طلب
پی ٹی اے نے پی ٹی ایم ایل کو حکم موصول ہونے کے 7 کاروباری دنوں کے اندر ایک جامع تعمیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔
رپورٹ میں اونک کی متعلقہ سرگرمیاں بند کرنے اور سروس کی بندش کی تصدیق کے ساتھ پی ٹی اے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی مکمل تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔
اتھارٹی نے واضح کیا کہ موجودہ صارفین کی منتقلی کے لیے دی گئی 3 ماہ کی مدت کے علاوہ اونک کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے کوئی عبوری اجازت یا اضافی مہلت نہیں دی گئی۔ مستقبل میں اونک کی کسی بھی سرگرمی کے لیے پی ٹی اے سے مطلوبہ ریگولیٹری منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
معاملہ جون 2023 سے زیر غور
اونک سے متعلق ریگولیٹری معاملہ جون 2023 میں شروع ہوا تھا، جب پی ٹی ایم ایل نے پی ٹی اے کو ایک ڈیجیٹل پروڈکٹ متعارف کرانے کے ارادے سے آگاہ کیا۔
ابتدائی منصوبے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے واقف صارفین کو ہدف بناتے ہوئے ایپ پر مبنی مکمل سروس ماڈل متعارف کرانے کی تجویز دی گئی تھی، جبکہ ابتدائی فروخت کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور فیصل آباد میں شروع کرنے کا منصوبہ تھا۔
بعد میں پی ٹی اے نے خدشہ ظاہر کیا کہ اونک کو مارکیٹ میں جس انداز سے متعارف کرایا جارہا ہے، اس سے صارفین میں یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ یہ کسی لائسنس یافتہ سیلولر آپریٹر سے تعلق نہ رکھنے والی ایک آزاد کمپنی ہے۔ اس پر پی ٹی ایم ایل کو اونک کے ساتھ اپنے تعلق کو واضح طور پر ظاہر کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اگست 2023 میں ریگولیٹر نے پی ٹی ایم ایل کو حکم دیا کہ مکمل معلومات فراہم کرکے ان کا جائزہ لیے جانے تک اونک کا اجرا نہ کیا جائے۔
پی ٹی ایم ایل نے اس ہدایت کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ عدالت نے فروری 2026 میں درخواست کو نمائندگی میں تبدیل کرتے ہوئے معاملہ وجوہات پر مبنی فیصلہ کرنے کے لیے دوبارہ پی ٹی اے کو بھیج دیا۔
پی ٹی ایم ایل کا مؤقف مسترد
بعد ازاں پی ٹی ایم ایل نے پی ٹی اے کے سامنے مؤقف اپنایا کہ اونک کسی آزاد ٹیلی کام آپریٹر یا ایم وی این او کے بجائے محض کمپنی کا اپنا ڈیجیٹل برانڈ ہے، جبکہ ڈی ٹی ایم ایس کے ساتھ بلڈ آپریٹ سروسز معاہدے کا تعلق صرف آؤٹ سورسنگ یا منیجڈ سروسز انتظام کی نوعیت کا ہے۔
کمپنی کا کہنا تھا کہ صارفین، نمبرنگ، اسپیکٹرم اور تمام حتمی ریگولیٹری ذمہ داریاں بدستور پی ٹی ایم ایل کے پاس موجود ہیں۔
تاہم پی ٹی اے نے انتظام کی محض ظاہری شکل کے بجائے اس کی حقیقی تجارتی اور آپریشنل نوعیت کو بنیاد بناتے ہوئے یہ مؤقف مسترد کردیا اور اونک کی نئی تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا حکم جاری کردیا۔
یہ فیصلہ پاکستان میں تیزی سے ابھرتی ڈیجیٹل فرسٹ ٹیلی کام اور ایم وی این او مارکیٹ کے لیے ایک اہم ریگولیٹری پیش رفت تصور کیا جارہا ہے۔
وفاقی حکومت کا ایم وی این او پالیسی فریم ورک 2025 سابقہ 2006 کی گائیڈ لائنز کی جگہ لے چکا ہے۔ نئے فریم ورک میں ابتدائی قومی ایم وی این او لائسنس فیس کم کرکے 140,000 ڈالر مقرر کی گئی، جبکہ 2012 کے ایم وی این او ضوابط کے تحت ابتدائی لائسنس فیس 50 لاکھ ڈالر مقرر تھی۔