سانحۂ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ جاری،ہسپتال کی واضح انتظامی،ادارہ جاتی ناکامی وجہ قرار
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پمزمیں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے کی 43 صفحات پر مشتمل جامع تحقیقاتی رپورٹ باضابطہ طور پر جاری کردی گئی ہے، جس میں انکوائری کمیٹی نے واقعے کو ہسپتال کی واضح انتظامی اور ادارہ جاتی ناکامی قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری میں زیر علاج 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، جبکہ ایک بچے کو بحفاظت بچا لیا گیا۔
تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا کہ پمز میں فائر سیفٹی سے متعلق سنگین خامیوں کی نشاندہی واقعے سے پہلے ہی کی جاچکی تھی، تاہم اس کے باوجود ضروری حفاظتی اور دفاعی اقدامات نہیں کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 6 بج کر 39 منٹ پر اسپتال کے سی سی ٹی وی کیمرے متاثر ہوئے، جس کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی۔
تحقیقات کے دوران جائے وقوعہ سے ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے ثابت ہو کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی یا اس کی وجہ آکسیجن کا اخراج تھا۔ البتہ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ ہسپتال میں آگ کا فوری پتا لگانے کے لیے کوئی مؤثر خودکار فائر ڈیٹیکشن نظام موجود نہیں تھا۔
نیشنل فرانزک ایجنسی کے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر رپورٹ میں آگ لگنے کا اصل مقام ایئر کنڈیشنر نمبر 2 کی برقی کیبل کو قرار دیا گیا، جہاں بجلی کی خرابی کے نتیجے میں شارٹ سرکٹ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق آگ کی ابتدا کسی انکیوبیٹر یا وارمر سے نہیں ہوئی تھی۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ 10 بستروں کی گنجائش رکھنے والی نرسری میں 15 نومولود بچے زیر علاج تھے، جن میں سے بیشتر آکسیجن یا سانس کی معاونت پر انحصار کررہے تھے۔
نرسری میں موجود آتش گیر مواد اور آکسیجن سے بھرپور ماحول نے آگ اور دھوئیں کے پھیلاؤ کو مزید شدید اور تیز کردیا، جبکہ ہنگامی صورتحال میں بچوں کے محفوظ انخلا کے لیے مناسب وسائل بھی دستیاب نہیں تھے۔
رپورٹ کے مطابق نومولود بچوں کے ہنگامی انخلا کا کوئی ایس او پی موجود نہیں تھا، جبکہ نرسری میں اسپرنکلر اور الارم نظام بھی فعال نہیں تھے۔
انکوائری کمیٹی نے آگ سامنے آنے اور بیرونی امداد طلب کیے جانے کے درمیان وقفے کو بھی حادثے کی سنگینی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں آگ ظاہر ہونے کا وقت 6 بج کر 38 منٹ بتایا گیا، جبکہ بیرونی امدادی ٹیموں کو 6 بج کر 55 منٹ پر روانہ کیا گیا اور آپریشنل ٹیمیں 7 بج کر ایک منٹ پر جائے وقوعہ پہنچیں۔
کمیٹی نے اس وقفے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے بیرونی امداد طلب کرنے میں ہونے والی تاخیر کی مزید تحقیقات کی سفارش کی ہے۔
دوسری جانب رپورٹ میں واقعے کے وقت موجود فرنٹ لائن طبی عملے کے کردار کو سراہتے ہوئے ان الزامات اور افواہوں کو مسترد کیا گیا ہے کہ عملے نے نومولود بچوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔
نیشنل فرانزک ایجنسی کے مضبوط تکنیکی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ انتہائی سنگین حالات کے باوجود طبی عملے نے چند سیکنڈز کے اندر بچوں کو بچانے کے لیے فوری اور بہادری سے ممکنہ اقدامات کیے۔
رپورٹ میں بالخصوص نرس رضیہ نورین کی بہادری کا ذکر کیا گیا، جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود بچے کو بحفاظت باہر نکالا اور پھر دیگر بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔
اسی طرح ڈاکٹر عبدالرحمان بھی واقعے کے دوران موقع پر موجود رہے اور ریسکیو کی کوششوں میں حصہ لیتے رہے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کسی ایک حفاظتی یا انتظامی نظام کی ناکامی کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ متعدد حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی، موجود نظاموں کے بروقت فعال نہ ہونے اور طویل عرصے سے موجود کمزوریوں کو دور نہ کرنے نے مل کر اس سانحے کو جنم دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سی ڈی اے کے خطوط اور وفاقی محتسب کی سفارشات میں پمز کی فائر سیفٹی خامیوں کی پہلے ہی نشاندہی کی جاچکی تھی، جبکہ پمز انتظامیہ نے خود 2025 میں اپنے حفاظتی نظام کے فرسودہ ہونے کا اعتراف کیا تھا۔
اس کے باوجود حفاظتی نظام کو تبدیل اور مؤثر نہ بنانے پر انکوائری کمیٹی نے بنیادی ادارہ جاتی ذمہ داری پمز اور اس کی اعلیٰ انتظامیہ پر عائد کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر بروقت ضروری حفاظتی اقدامات مکمل کرلیے جاتے تو اتنے بڑے جانی نقصان سے بچا جاسکتا تھا۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ بیرونی امداد طلب کرنے میں قابل مواخذہ تاخیر، برقی مینٹیننس اور متعلقہ کنٹریکٹرز کے کردار کی مزید فوجداری تحقیقات کی جائیں۔
اس کے ساتھ تمام اسپتالوں میں فوری طور پر برقی اور فائر سیفٹی آڈٹ کرانے اور ایسے مؤثر انتظامی و حفاظتی نظام قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے جو مستقبل میں اس نوعیت کے سانحات کی روک تھام یقینی بنا سکیں۔