World

مکہ کی حدود میں داخل ہونے والا حوثی ڈرون تباہ، حملے قابلِ مذمت ہیں، پاکستان

مکہ کی حدود میں داخل ہونے والا حوثی ڈرون تباہ، حملے قابلِ مذمت ہیں، پاکستان
۴ گھنٹے پہلے

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حوثی ڈرون کو روک کر تباہ کردیا ہے، جبکہ اتحاد نے مقدس مقامات کے تحفظ کو سرخ لکیر قرار دیتے ہوئے واقعے کو ایک بڑی اور سنگین پیش رفت قرار دیا ہے۔

 

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے عسکری اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے ڈرون کو مکہ مکرمہ کے جنوب میں فضائی دفاعی فورسز نے روک کر تباہ کردیا، اس سے پہلے کہ وہ مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوسکتا۔

 

ترجمان کے مطابق یہ حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کارروائی کا مقصد دنیا بھر سے مکہ آنے والے لاکھوں مسلمان زائرین میں خوف و ہراس پیدا کرنا تھا۔

 

میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ مقدس مقامات کا تحفظ سرخ لکیر ہے اور اتحادی افواج کی مشترکہ کمان حوثی ملیشیا اور اس کے اقدامات کے خلاف ضروری کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔

 

انہوں نے ماضی کے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل 27 جولائی 2017 کو بھی بیلسٹک میزائل کے ذریعے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

 

دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی فوری طور پر کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے۔

 

پاکستانی مشن کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ بڑھتا ہوا تنازع علاقائی امن و استحکام، جہاز رانی کی آزادی، بین الاقوامی تجارت اور توانائی کے تحفظ کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہا ہے۔

 

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے اس حق کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ وہ اپنے دفاع، شہریوں کے تحفظ اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کرے۔

 

عاصم افتخار احمد نے آبنائے باب المندب اور اس کے اطراف حوثیوں کے حملوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ یمن کو ایک وسیع تر علاقائی محاذ آرائی کی طرف دھکیل سکتا ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔

 

پاکستانی مستقل مندوب کے مطابق پاکستان تنازع کے پرامن حل اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا، تاکہ یمن اور خطے میں دیرپا امن اور استحکام ممکن بنایا جاسکے۔

 

ادھر سعودی عرب میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے انہیں محتاط رہنے اور سعودی عرب کے سفر کے اپنے منصوبوں پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

 

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ ہدایت ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں سے امریکی مفادات کو لاحق خطرات، مسلح تنازعات، دہشت گردی، ملک سے باہر جانے پر عائد کی جانے والی پابندیوں اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق مقامی قوانین کے تناظر میں جاری کی گئی ہے۔

 

سفری ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے بعض علاقوں میں خطرات کی سطح نسبتاً زیادہ ہے، جبکہ امریکی شہریوں کو بالخصوص یمن کی سرحد کی جانب سفر نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ وہاں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں