امریکا اور حوثیوں کی مسقط میں خفیہ ملاقات،امریکی جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکی حکام اور یمن کے حوثی گروپ کے نمائندوں کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں ایک غیر اعلانیہ ملاقات ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً سعودی عرب کی اہم آئل پائپ لائن پر مبینہ ڈرون حملوں کے بعد صورتحال مزید حساس ہوگئی ہے۔
مسقط میں امریکی سفارت خانے میں ملاقات کا دعویٰ
رائٹرز کے مطابق معاملے سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ یہ ملاقات مسقط میں قائم امریکی سفارت خانے میں ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمانی حکومت نے دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ قائم کرنے اور ملاقات کے انعقاد میں اہم ثالثی کا کردار ادا کیا۔
امریکی اور حوثی وفود کی شرکت
رپورٹ کے مطابق ملاقات میں امریکا کی نمائندگی مسقط میں موجود سفارتی حکام اور امریکی سفارت خانے کے عملے نے کی۔
حوثی وفد کی قیادت مسقط میں موجود ان کے سینئر نمائندے اور ترجمان محمد عبدالسلام نے کی، جن پر امریکا کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں۔
ذرائع کے مطابق حوثی رہنما عبدالمالک العجری بھی مذاکرات میں شریک تھے۔
امریکی بحری جہازوں پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کا دعویٰ
رائٹرز کے مطابق ملاقات کے دوران حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ ان کا امریکی بحری جہازوں یا تجارتی بیڑے کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
ذرائع کے مطابق حوثی وفد نے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ مئی 2025 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر قائم ہیں۔
رپورٹ میں یمنی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ حوثی نمائندوں کا مؤقف تھا کہ بحیرہ احمر اور اس کے اطراف میں ان کے اہداف صرف اسرائیلی جہاز اور سعودی عرب کی ملکیت والے بحری جہاز ہوں گے، جبکہ دیگر عالمی تجارتی جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
تاہم ان دعوؤں پر امریکا، عمان یا حوثی گروپ کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔