مکہ معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں،چین کیساتھ تعلقات پر اثر نہیں پڑے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کے کئی دہائیوں پر محیط اسٹریٹیجک اور دفاعی تعلقات کو باضابطہ شکل دینے کے ساتھ خطے میں مشترکہ دفاعی بازدارندگی کو نمایاں طور پر مضبوط کرتا ہے۔
العربیہ انگلش کے پروگرام گلوبل نیوز ٹوڈے کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ترجمان پاک فوج نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے، علاقائی سلامتی، چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، سرحد پار خطرات اور امریکا، ایران کشیدگی کے دوران اسلام آباد کے سفارتی کردار پر تفصیلی گفتگو کی۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان کئی دہائیوں سے گہرے برادرانہ تعلقات اور ادارہ جاتی دفاعی روابط موجود ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے پہلے سے موجود اس فریم ورک کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے تاکہ ابھرتے ہوئے جدید سیکیورٹی چیلنجز کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان اتحاد اور دفاعی عزم کا واضح پیغام دیتا ہے اور اس کا بنیادی فلسفہ باہمی سلامتی اور دفاعی استحکام ہے۔
معاہدے میں شامل کسی ملک پر براہ راست فوجی حملے کی صورت میں ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے دفاعی وعدوں سے متعلق آپریشنل تفصیلات سختی سے خفیہ ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس سطح کے کسی بھی دفاعی معاہدے کا انحصار بڑی حد تک خفیہ اسٹریٹیجک منصوبہ بندی، مشترکہ آپریشنل فریم ورکس اور مربوط دفاعی بازدارندگی کے نظام پر ہوتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق مخصوص جنگی یا آپریشنل حالات سے متعلق حکمت عملی کی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جاسکتیں، تاہم پاکستان کی دفاعی تیاری اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ وابستگی مکمل اور غیر متزلزل ہے۔
’نیٹو طرز کا مسلم اتحاد‘، ترجمان پاک فوج نے وضاحت کردی
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ناقدین اور بعض بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے ’نیٹو طرز کا مسلم اتحاد‘ قرار دیے جانے سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اس اتحاد کی بنیادی توجہ علاقائی استحکام پر ہے اور اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف قائم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ پاکستان اسے خطے میں تقسیم یا نئی صف بندی پیدا کرنے کے بجائے وسیع تر علاقائی ہم آہنگی کے ایک ستون کے طور پر دیکھتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ فریم ورک متحرک نوعیت کا ہے اور مستقبل میں ایسے نئے شراکت دار بھی اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں جو اجتماعی سلامتی، امن اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اس کے بنیادی وژن سے اتفاق رکھتے ہوں۔
چین کے ساتھ تعلقات پر کوئی اثر نہیں
پاکستان اور چین کے گہرے، تاریخی اور اسٹریٹیجک تعلقات کے تناظر میں پوچھے گئے سوال پر ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی بھی طرح بیجنگ کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات سے مسابقت نہیں کرتا اور نہ ہی ان میں کوئی پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ چین کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات کی انتہائی مؤثر انداز میں تکمیل کرتا ہے۔
ترجمان پاک فوج کے مطابق چین کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون قومی سلامتی کا ایک بنیادی ستون ہے، جس میں جے-10 سی اور جے ایف-17 جیسے مشترکہ تکنیکی پروگراموں سے لے کر صنعتی تعاون تک مختلف شعبے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ علاقائی استحکام کے ایک مختلف اور متوازی دائرے میں کام کرتا ہے اور چین کے ساتھ پاکستان کے انتہائی مضبوط اور مستحکم تعلقات کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ رہ سکتا ہے۔
سرحد پار حملے کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا
پاکستان کی فوری سرحدی صورتحال اور وقفے وقفے سے پیدا ہونے والی کشیدگی سے متعلق سوال پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے اور ملک کا عملی ریکارڈ خود اس کی گواہی دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں اور اسٹریٹیجک تیاری پر مکمل اعتماد ہے۔
ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی یا پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف سرحد پار حملے کی کسی بھی کوشش کا فوری، سوچا سمجھا اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کی اولین توجہ پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ بنانے، دہشت گردی کے خاتمے اور ملک کے اندر امن کو یقینی بنانے پر ہے، تاہم دفاعی بازدارندگی کے معاملے میں پاکستان کے مؤقف کے حوالے سے کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔
امریکا، ایران کشیدگی؛ مذاکرات ہی واحد قابل عمل راستہ
خطے میں بڑی طاقتوں، بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے ثالثی کی پیشکش سے متعلق اطلاعات پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا ایک بڑا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پختہ یقین ہے کہ فوجی محاذ آرائی اور براہ راست حملے علاقائی عدم استحکام میں مزید اضافہ کرتے ہیں، جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششیں اور مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے اس خواہش کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں استحکام پیدا کرنے والی قوت کے طور پر اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحدیں اسٹریٹیجک طور پر حساس خطوں سے ملتی ہیں، اس لیے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی تنازعات کے پائیدار حل کے لیے جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہی واحد قابل عمل راستہ ہیں۔
افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے
پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ افغان طالبان حکومت سے متعلق فوج کا مؤقف وہی ہے جو ملک کی سیاسی قیادت کا ہے۔
العربیہ انگلش کو دیے گئے انٹرویو میں ترجمان پاکستان فوج نے افغانستان، بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، بھارت کے ساتھ تعلقات، مئی 2025 کے عسکری تنازع اور امریکا و ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی کی کوششوں سمیت مختلف امور پر گفتگو کی۔
افغانستان میں متعدد شدت پسند تنظیمیں سرگرم ہیں
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ متعدد شدت پسند تنظیمیں اب بھی افغانستان سے سرگرم ہیں اور یہ صرف پاکستان کا مؤقف نہیں بلکہ بین الاقوامی رپورٹس میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔
ان سے سوال کیا گیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں تو سرحد پار سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے اسلام آباد کن اقدامات کو جائز تصور کرتا ہے؟
جواب میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 51 دفاع کا حق دیتا ہے۔ پاکستان اپنے شہریوں کی جان، عزت اور مال کے تحفظ کا پابند ہے اور اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے، چاہے خطرات کہیں سے بھی پیدا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان شدت پسندی کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے گا اور اس سلسلے میں نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کی گئی ہیں۔
بلوچستان میں صورتحال کو شورش نہیں بلکہ دہشت گردی سمجھتے ہیں
بلوچستان کی صورتحال سے متعلق سوال پر ترجمان پاکستان فوج نے اس تاثر سے اختلاف کیا کہ صوبے میں کوئی شورش جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے اسے وہ شورش کے بجائے دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق ایک طرف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کی جارہی ہیں تو دوسری جانب ترقی، بہتر طرز حکمرانی، عوام سے روابط اور معاشی مواقع پیدا کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو اچھی حکمرانی، بہتر مواقع اور مسلسل توجہ ملنی چاہیے، جبکہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے والوں کا مقابلہ کیا جائے گا۔
دو جوہری ہمسایوں کے درمیان فوجی تنازع سٹریٹیجک غلطی ہے
انٹرویو کے دوران ترجمان پاکستان فوج سے مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ ہونے والے عسکری تنازع اور اس سے پاکستان فوج کے حاصل کردہ سبق کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پہلا سبق یہ ہے کہ دو ہمسایہ جوہری طاقتوں کے درمیان فوجی تنازع ایک سٹریٹیجک غلطی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بھارت نے بھی یہ سبق سیکھ لیا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب بھارت کو دینا ہے، تاہم پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے یہ حقیقت مسلسل یاد دلاتا رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مساوی بنیادوں پر امن اور علاقائی استحکام کا حامی ہے، لیکن اگر فوجی جارحیت کے ذریعے علاقائی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائے گا۔
جوہری صلاحیت حملے سے باز رکھنے کا ذریعہ ہے
مستقبل میں ممکنہ جوہری تصادم کے خطرات سے متعلق سوال پر ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت دشمن کو حملے سے باز رکھنے کا کردار ادا کرتی ہے، جبکہ سیاسی قیادت کی جانب سے تحمل اور رابطے بھی کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے میں اہم ہیں۔
پاکستان اور بھارت کی افواج کے درمیان براہ راست رابطوں کی بحالی کے امکانات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (DGMOs) کے درمیان ہاٹ لائن کئی دہائیوں سے مؤثر طریقے سے کام کررہی ہے اور کشیدگی کے ادوار میں بھی یہ رابطہ برقرار رہا ہے۔
بھارت سے بات چیت مساوات اور باہمی احترام پر ہونی چاہیے
بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اس بارے میں فیصلہ کرنا سیاسی قیادت کا اختیار ہے۔
تاہم ان کے مطابق کسی بھی بات چیت کی بنیاد مساوات، باہمی احترام اور مسائل کے مخلصانہ حل کی کوشش پر ہونی چاہیے۔
بھارت کی دفاعی صلاحیتوں اور عسکری سرمایہ کاری سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ان پیش رفتوں سے آگاہ ہے، لیکن پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوجی صلاحیتیں دفاعی نوعیت کی ہیں اور ملک کو اپنی دفاعی استعداد پر مکمل اعتماد ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے تمام فریقوں سے رابطے میں ہیں
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ پیچیدہ صورتحال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں پاکستان ایک غیر جانبدار اور دیانت دار سہولت کار کی حیثیت سے کام کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن کا حامی ہے اور اسی تناظر میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے۔
جب ان سے ثالثی کی کوششوں میں اب تک ہونے والی پیش رفت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں پر محیط پیچیدہ تنازعات میں ثالث کو غیر جانبدار اور معروضی رہنا ہوتا ہے، اس لیے پاکستان بطور ثالث جاری رابطوں یا ممکنہ پیش رفت کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کرے گا۔
امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں
اس سوال پر کہ پاکستان ایسا کیا کرسکتا ہے جو دوسرے ثالث نہیں کرسکے، ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ثالثوں کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے، یعنی پائیدار اور پُرامن حل تک پہنچنا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور پاکستانی قیادت کا اس تنازع میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا، ایران، چین اور دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میرٹ اور باہمی مفادات کی بنیاد پر قائم ہیں اور پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔