وزیراعظم شہباز شریف اوراو آئی سی کی مکہ پرحوثیوں کے ڈرون حملے کی شدید مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ مکرمہ پر مبینہ ڈرون حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے پر پاکستان کے عوام افسردہ اور مضطرب ہیں، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی مکہ اور مدینہ ریجن پر حوثیوں کے مبینہ حملوں اور سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی مذمت کی ہے۔
پاکستان سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اس ناقابل معافی اقدام پر محسوس کیے جانے والے غم اور دکھ کی شدت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
وزیراعظم نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے گریز کریں کیونکہ تنازعات کے باعث خطہ پہلے ہی بہت نقصان اٹھا چکا ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کے دفاع میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مذاکرات اور سفارت کاری کو پائیدار امن کا واحد راستہ قرار دیا۔
او آئی سی کی مکہ اور مدینہ ریجن پر مبینہ حوثی حملوں کی مذمت
دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مکہ اور مدینہ ریجن پر حوثیوں کے مبینہ حملوں اور سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی مذمت کی ہے۔
او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں الزام عائد کیا کہ ان حملوں سے بے گناہ شہریوں میں خوف پیدا ہوا، مقدس مقامات اور مساجد کا تقدس پامال ہوا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔
مقدس مقامات کے خلاف کارروائیاں ناقابل قبول ہیں، او آئی سی
او آئی سی جنرل سیکریٹریٹ کے مطابق مقدس مقامات، مساجد اور شہری تنصیبات کے خلاف حوثی ملیشیا کی کارروائیاں ایسی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں جو اسلامی اقدار، بین الاقوامی اصولوں اور قانون کے منافی ہیں۔
تنظیم نے زور دیا کہ مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزی ناقابل قبول اور ناقابل برداشت اقدام ہے۔
او آئی سی نے کہا کہ ایسے اقدامات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اور مستقبل میں اس نوعیت کی کارروائیوں کا راستہ روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جانے چاہییں۔