Pakistan

سرجانی ٹاؤن میں گھر کے اندر بچوں سمیت قتل ہونے والی خاتون کا فون غائب

سرجانی ٹاؤن میں گھر کے اندر بچوں سمیت قتل ہونے والی خاتون کا فون غائب
۱ منٹ پہلے

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں گھر کے اندر خاتون اور اس کے 3 کمسن بچوں کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم پولیس کو اب تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ واردات کے بعد مقتولہ مہوش کا موبائل فون گھر سے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ واقعے کی چھان بین کے لیے 8 رکنی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔

 

پولیس کے مطابق 34 سالہ مہوش دانش، 6 سالہ حسنین، 8 سالہ مرحا اور 3 سالہ اشمیرا اس واقعے میں جان سے گئے۔ چاروں مقتولین کو مقامی قبرستان میں انتہائی سوگوار ماحول میں سپرد خاک کردیا گیا۔

 

 

خاندان سے واقف شخص کے ملوث ہونے کا شبہ

 


ایس ایچ او سرجانی ناصر محمود کے مطابق ابتدائی شواہد سے شبہ ہے کہ اس لرزہ خیز واردات میں خاندان سے واقف کوئی شخص ملوث ہوسکتا ہے، تاہم پولیس ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔

 

 

مقتولہ کا موبائل فون غائب، نمبر بعد میں بند ہوگیا

 


تفتیش میں سامنے آنے والے اہم پہلوؤں میں مقتولہ مہوش کا موبائل فون بھی شامل ہے، جو گھر سے نہیں مل سکا۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق مہوش کے شوہر دانش نے گھر پہنچنے سے قبل اپنی اہلیہ کے نمبر پر کال کی تو فون کی گھنٹی جارہی تھی، تاہم بعد میں نمبر بند ہوگیا۔

 

پولیس نے رات گئے تک گھر کی تلاشی لی لیکن موبائل فون برآمد نہیں ہوسکا۔ تفتیشی حکام اب مقتولہ کے فون کا کال ریکارڈ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حکام کا خیال ہے کہ موبائل فون ملنے کی صورت میں تحقیقات کے لیے اہم شواہد سامنے آسکتے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق گھر میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے مرکزی گیٹ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں۔ کسی کھڑکی یا دروازے کو توڑنے کے شواہد بھی نہیں ملے، جبکہ چھت کے ذریعے بھی گھر میں کسی شخص کا آنا جانا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

 

پولیس کو واردات میں استعمال ہونے والا آلہ قتل بھی تاحال نہیں مل سکا۔

 

 

شوہر سے پوچھ گچھ، تکنیکی شواہد پر تحقیقات جاری

 


تفتیشی حکام مقتولہ کے شوہر دانش سے بھی پوچھ گچھ کرچکے ہیں، تاہم پولیس کے مطابق اس سے اب تک کوئی ایسا کارآمد سراغ حاصل نہیں ہوسکا جس سے تحقیقات میں نمایاں پیش رفت ہوسکے۔

 

پولیس اب جیو فینسنگ، کال ڈیٹیل ریکارڈز (CDRs) اور ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (DVR) کی فوٹیج سمیت دیگر تکنیکی شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولین کے اہل خانہ اس وقت شدید صدمے میں ہیں، اس لیے فی الحال تحقیقات میں تکنیکی شواہد پر زیادہ توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔

 

مقدمے میں واقعے کے دن کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں


قتل کا مقدمہ مقتولہ کے سسر اور بچوں کے دادا محمد یامین کی مدعیت میں تھانہ سرجانی ٹاؤن میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل سے متعلق دفعہ 302 شامل کی گئی ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے مشترکہ نیت سے متعلق دفعہ 34 کے تحت بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

 

ایف آئی آر کے مطابق مہوش اور دانش کی شادی تقریباً 10 سے 12 سال قبل ہوئی تھی۔

 

مدعی مقدمہ کے مطابق واقعے کے روز شام تقریباً ساڑھے 4 بجے مہوش نے انہیں فون کیا اور بی سی (کمیٹی) بھیجنے کے لیے کہا۔

 

بعد ازاں رات تقریباً سوا 8 بجے ان کے بیٹے دانش نے روتے ہوئے فون کیا اور بتایا کہ وہ برباد ہوگیا ہے، کسی نے اس کی بیوی اور 2 بچوں کو قتل کردیا ہے جبکہ چھوٹی بیٹی اشمیرا شدید زخمی ہے۔

 

محمد یامین کے مطابق جب وہ اپنے بیٹے کے گھر پہنچے تو پولیس پہلے ہی موقع پر موجود تھی اور لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا۔

 

شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کی جانے والی 3 سالہ اشمیرا بھی بعد ازاں رات گئے دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

 

 

تحقیقات کے لیے 8 رکنی خصوصی ٹیم قائم

 


واردات کی تحقیقات کے لیے 8 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

 

ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی کررہے ہیں، جبکہ ٹیم میں ایس پی انویسٹی گیشن ویسٹ، ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سرجانی سمیت دیگر افسران شامل ہیں۔

 

تحقیقاتی ٹیم کو قتل کی وجہ معلوم کرنے، ملزم یا ملزمان کی شناخت اور دستیاب تکنیکی و دیگر شواہد کی بنیاد پر کیس کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

 

 

پوسٹ مارٹم میں سروں پر متعدد شدید چوٹوں کا انکشاف

 


چاروں مقتولین کی ابتدائی طبی اور پوسٹ مارٹم رپورٹس میں سروں پر متعدد شدید نوعیت کی چوٹیں سامنے آئی ہیں۔

 

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق لاشوں کے معائنے کے دوران سر پر متعدد ضربوں کے نشانات پائے گئے اور شدید چوٹوں کے باعث دماغی ٹشوز کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

 

ابتدائی طبی شواہد کے مطابق مہوش کو لوہے کی راڈ یا ڈنڈے جیسی سخت اور بھاری چیز سے نشانہ بنائے جانے کا امکان ہے، جبکہ بچوں کو سر پر کسی سخت سطح سے لگنے والی مہلک چوٹیں آئیں۔

 

شدید زخمی کمسن اشمیرا کو علاج کے لیے جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ بعد ازاں دم توڑ گئی۔

 

پولیس سرجن کے مطابق مقتولین کی لاشوں سے نمونے حاصل کرکے کیمیکل ایگزامینیشن کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ رپورٹ آنے کے بعد یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ واردات سے قبل مقتولین کو کوئی نشہ آور چیز دی گئی تھی یا نہیں۔

 

پولیس قتل کے ممکنہ محرک، خاندان سے واقف کسی شخص کے ممکنہ کردار، گھر میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے طریقے، مقتولہ کے غائب موبائل فون اور آلہ قتل کی تلاش سمیت تمام پہلوؤں سے تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں