ریلیف سکیم، پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا پیٹرول فراہم کرنے سے انکار
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت کی جانب سے شروع کی گئی پیٹرول ریلیف سکیم کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ نظام کے تحت عوام کو پیٹرول فراہم کرنے سے انکار کردیا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین انوار کمال نے کہا کہ ریلیف اسکیم کی تیاری کے دوران پیٹرولیم ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ موجودہ طریقہ کار پر عملی طور پر عملدرآمد کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریلیف کا فائدہ براہ راست عوام تک آسان، شفاف اور مؤثر انداز میں پہنچایا جائے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انوار کمال کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باعث پہلے ہی پیٹرول پمپ مالکان کا سرمایہ شدید متاثر ہوچکا ہے، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے اربوں روپے کے واجبات بھی تاحال ادا نہیں کیے گئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریلیف اسکیم کا مالی بوجھ پیٹرول پمپ مالکان پر ڈالنا قابلِ عمل نہیں، کیونکہ ڈیلرز پہلے ہی اپنے مارجن میں اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے موجودہ طریقہ کار کے تحت پیٹرول فراہم نہیں کیا جائے گا۔
پی پی ڈی اے کے وائس چیئرمین نے سوال اٹھایا کہ حکومت سستے پیٹرول کی مد میں دی جانے والی رقم ڈیلرز کو کس طریقہ کار کے تحت واپس ادا کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن گزشتہ 3 روز سے حکومتی حکام سے رابطے میں ہے، تاہم اب تک اس معاملے پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مستحق افراد کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا، جس کے لیے ایک خصوصی طریقہ کار تیار کیا گیا ہے۔
حکومتی فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل اور 800 سی سی تک کی گاڑیاں استعمال کرنے والے افراد کو پیٹرول پر سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ یہ اسکیم 16 ستمبر کی رات 11 بج کر 59 منٹ پر ملک بھر میں نافذ کردی جائے گی۔