میر رضا کے بزنس پارٹنر احمد شروع سے ہی مشکوک دکھائی دے رہے ہیں، جوڈیشل کمیشن
نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے مقتول کے بزنس پارٹنر احمد بھاردے کو طلب کرکے مختلف سوالات کیے، جبکہ میڈیا پر دیے گئے ان کے بیانات پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں جاری تحقیقات کے دوران کمیشن نے احمد بھاردے کو روسٹرم پر بلا کر ان کی خیریت دریافت کی اور عمر کے بارے میں سوال کیا، جس پر احمد بھاردے نے بتایا کہ ان کی عمر 26 سال ہے۔
جوڈیشل کمیشن نے احمد بھاردے سے کہا کہ انہوں نے ان کے کچھ انٹرویوز دیکھے ہیں جن میں کی گئی گفتگو مناسب نہیں تھی۔ کمیشن نے ریمارکس دیے کہ ان کا دوست انتہائی دردناک انداز میں قتل ہوا، جبکہ مقتول کے اہلخانہ قرضوں سمیت کئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ معاملہ ان کے لیے انتہائی حساس ہے۔
کمیشن نے کہا کہ ایک شخص کو اس طرح قتل کیا جائے اور پھر اس کے بارے میں ایسے انداز میں بات کی جائے تو یہ مناسب نہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے احمد بھاردے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ پہلی مرتبہ کمیشن کے سامنے آئے تھے تو ان کی آواز تک نہیں نکل رہی تھی، جبکہ مقتول خاندان کا مؤقف ہے کہ ان سے ہر پہلو پر سوالات کیے جائیں۔
کمیشن نے ریمارکس دیے کہ احمد بھاردے شروع سے ہی مشکوک دکھائی دے رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی واضح کیا کہ یہاں موجود افراد براہ راست فائرنگ کرنے والے نہیں بلکہ معاملے کو اپنے انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کمیشن کے مطابق یہاں آنے والے افراد کو اہلخانہ کی مشکلات کا مکمل اندازہ نہیں، جبکہ احمد بھاردے کو میڈیا پر بار بار انٹرویوز دینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس طرح کے بیانات ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ احمد بھاردے نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں، تاہم مقتول کے اہلخانہ کا حق ہے کہ وہ ان سے سوالات کریں۔
جوڈیشل کمیشن نے مزید ریمارکس دیے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احمد بھاردے کو کسی نے آگے کیا ہے اور وہ بہت کچھ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ اگر انہیں اہلخانہ سے کوئی بات کرنی ہے تو وہ بند کمرے میں بھی کی جا سکتی ہے۔
کمیشن نے احمد بھاردے کو میڈیا سے گفتگو میں احتیاط کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کئی لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔
اس موقع پر کمیشن نے مقتول کے اہلخانہ سے بھی درخواست کی کہ وہ احمد بھاردے سے اکیلے میں ملاقات کریں۔
مقتول کے والد میر حسین نے کمیشن کے سامنے کہا کہ احمد انہیں اپنا بیٹا لگتا ہے اور ان کی کسی سے کوئی لڑائی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی جانب سے آنے والے بعض افراد جھوٹ بول رہے ہیں۔
کمیشن نے اہلخانہ سے کہا کہ وہ احمد بھاردے کی بات سنیں۔ وکیل خالد ممتاز نے کہا کہ احمد بھاردے بہت کم عمر ہیں، جس پر کمیشن نے واضح کیا کہ خاندان کو تمام قانونی حقوق حاصل ہیں اور کسی نے یہ نہیں کہا کہ احمد گناہ گار ہیں۔
خالد ممتاز نے بتایا کہ انہوں نے 28 تاریخ کو احمد بھاردے کی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی اور انہیں چالیسویں کے موقع پر جانے کا بھی کہا گیا تھا۔ ان کے مطابق خاندان نے احمد بھاردے پر شبہ ظاہر کیا تھا، اسی وجہ سے ضمانت کی درخواست دائر کی گئی۔
کمیشن نے اہلخانہ سے کہا کہ وہ احمد بھاردے سے ملاقات کریں، جس کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوئی تو کمیشن کو حلف نامہ بھی دیا جا سکتا ہے۔
وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ خاندان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ کمیشن کا مقصد تحقیقات میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔
اس موقع پر احمد بھاردے نے کہا کہ میر رضا کی فیملی ان کی اپنی فیملی ہے اور وہ آج ہی اہلخانہ سے ملاقات کے لیے جائیں گے۔
بعد ازاں احمد بھاردے کا بیان جوڈیشل کمیشن کے سامنے مکمل ہوگیا۔