Breaking News

امریکی ڈرون کمپنی کا پاک فوج سے معاہدے اور ڈرون آرڈر ملنے کا دعویٰ

امریکی ڈرون کمپنی کا پاک فوج سے معاہدے اور ڈرون آرڈر ملنے کا دعویٰ
۱ منٹ پہلے

امریکی ڈرون ساز کمپنی پاور یو ایس کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ نے دعویٰ کیا ہے کہ کمپنی نے پاک فوج کے ساتھ ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت اسے بغیر پائلٹ فضائی نظام (ڈرونز) کا ابتدائی آرڈر بھی موصول ہوا ہے۔

 

بریٹ ویلیکووچ نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کے روز معاہدے پر دستخط کیے گئے اور کمپنی کو ابتدائی آرڈر بھی موصول ہوا۔ تاہم انہوں نے سکیورٹی وجوہات اور معلومات خفیہ رکھنے کی پالیسی کے باعث معاہدے میں شامل ڈرون ٹیکنالوجی کی نوعیت اور آرڈر کی مالی مالیت سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اس تعاون کا مقصد امریکا اور پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرنا ہے، جبکہ کمپنی پاکستان میں ٹیکنالوجی کی تیاری کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

 

پاور یو ایس کمپنی فضائی اور بحری ڈرونز تیار کرتی ہے، جو فوجی اور صنعتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

 

دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بریٹ ویلیکووچ کی قیادت میں پاور یو ایس کے وفد نے جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔

 

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ملاقات میں دفاعی ٹیکنالوجی، دفاعی خریداری، دفاعی پیداوار اور طویل المدتی استعدادِ کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 

بیان میں بتایا گیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی حل کی اہمیت پر زور دیا، تاہم آئی ایس پی آر کے بیان میں مفاہمتی یادداشت یا ڈرون آرڈر کا براہِ راست ذکر نہیں کیا گیا۔

 

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں بہتری دیکھی جا رہی ہے اور دونوں ممالک دفاعی و اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

 

رائٹرز کے مطابق پاور یو ایس کمپنی ایک امریکی کاروباری ادارے کے ساتھ انضمام کی تیاری بھی کر رہی ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹوں کی سرمایہ کاری شامل ہے۔

 

اس حوالے سے پاور یو ایس کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو فاکس نے واضح کیا کہ کمپنی کی ترقی یا معاہدوں کا ٹرمپ کے بیٹوں سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ معاہدے مکمل طور پر کمپنی کی صلاحیت اور قابلیت کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔

 

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے بھی بیان میں کہا کہ ان کا پاور یو ایس کے انتظامی امور یا آپریشنز سے کوئی تعلق نہیں اور وہ امریکا یا بیرون ملک کسی بھی معاہدے کے عمل میں شامل نہیں ہیں۔

 

وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکرٹری اینا کیلی نے بھی کہا ہے کہ اس معاملے میں مفادات کے ٹکراؤ کا کوئی مسئلہ موجود نہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں