Breaking News

ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی ضمانت منظور،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل

ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی ضمانت منظور،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل
۱ منٹ پہلے

سپریم کورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔

 

جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے دونوں کی ضمانت 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی اور قرار دیا کہ یہ ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک برقرار رہے گی۔

 

سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ دونوں ملزمان وکیل ہیں، اسی لیے عدالت ان کی عزت کا خیال رکھ رہی ہے، تاہم انہیں بھی عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وکیل اور عام شخص میں فرق ہوتا ہے۔

 

سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی ضمانت کی مخالفت کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ابھی اس معاملے پر کوئی مخالف فیصلہ نہیں دیا، جبکہ ٹرائل کورٹ میں فریقین کو 7 مواقع فراہم کیے گئے تھے۔

 

رانا اسد نے کہا کہ سزا معطلی کا متعلقہ عدالتی فورم ضابطہ فوجداری کی دفعہ 426 کے تحت ہائیکورٹ ہے، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوشن کو آخری موقع دے رکھا ہے۔

 

جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے جج اپنے حکم میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا ذکر کرتے ہیں تو کیس ملتوی ہو جاتا ہے، پھر جب معاملہ سپریم کورٹ میں آتا ہے تو ہائیکورٹ میں نئی تاریخ مقرر ہو جاتی ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے انداز میں سپریم کورٹ کے کام میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے اور استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے پہلے حکم کے بعد اب تک کیا پیش رفت ہوئی۔

 

وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ 12 مئی کو سپریم کورٹ نے پہلا حکم جاری کیا تھا اور کیس کو دو ہفتوں میں فیصلہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس بھی عدالت میں پڑھ کر سنائیں۔

 

دورانِ سماعت عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد کو بیٹھنے کی ہدایت کی اور جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پہلے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل سنے جائیں گے۔

 

اس پر فیصل صدیقی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ بیٹھ جائیں، لیکن تھکا تو انہوں نے ہمیں دیا ہے۔

 

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ صرف جج یا وکیل کے انتقال کی صورت میں ہی کیس ملتوی ہونا چاہیے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس متعدد مرتبہ ملتوی ہوا اور جلد سماعت کی درخواست بھی رجسٹرار آفس نے مسترد کر دی۔

 

انہوں نے کہا کہ ہائیکورٹ میں ہونے والی کارروائی ان کے لیے حیران کن تھی۔

 

اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ "آج کل سرپرائزز کا دور ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں