بجلی پیدا کرنے والے ذرائع کی فی یونٹ پیداواری لاگت کی تفصیلات جاری
ملک میں بجلی پیدا کرنے والے مختلف ذرائع کی فی یونٹ پیداواری لاگت کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جن کے مطابق واپڈا کے ہائیڈل پاور منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی سب سے کم لاگت پر دستیاب ہے، جبکہ بعض نجی آئی پی پیز کی بجلی کی قیمت 34 روپے فی یونٹ سے بھی زیادہ ہے۔
سینیٹ میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق واپڈا کے ڈیمز سے پیدا ہونے والی بجلی کی اوسط لاگت انتہائی کم ہے، جبکہ نجی بجلی گھروں کو اس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ادائیگیاں کی گئی ہیں۔
دستاویزات کے مطابق حکومت نے واپڈا کو 34.5 ارب یونٹس بجلی کی فراہمی کے عوض 186 ارب روپے ادا کیے، جبکہ نجی آئی پی پیز کو 49.8 ارب یونٹس بجلی کے لیے 1040 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران نجی آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں 1300 ارب روپے سے زائد رقم ادا کی گئی۔
تربیلا ڈیم سے بجلی کی لاگت سب سے کم
سینیٹ کو فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق تربیلا ہائیڈل پاور پروجیکٹ ملک میں بجلی پیدا کرنے کا سب سے کم لاگت والا ذریعہ ہے، جہاں فی یونٹ بجلی کی پیداواری لاگت صرف 2 روپے 70 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح منگلا ہائیڈل پاور پروجیکٹ سے بجلی 3 روپے 75 پیسے فی یونٹ کے حساب سے پیدا کی جا رہی ہے، جبکہ تمام واپڈا ڈیمز سے بجلی کی مجموعی اوسط لاگت 5 روپے 39 پیسے فی یونٹ رہی۔
دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداواری لاگت
دستاویزات کے مطابق چشمہ ایٹمی بجلی گھر سے بجلی کی لاگت 6 روپے 76 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ مقامی تھر کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 19 روپے 3 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی۔
دوسری جانب درآمدی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی لاگت نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ سے بجلی 34 روپے 17 پیسے فی یونٹ جبکہ پورٹ قاسم کول پاور پلانٹ سے 32 روپے 16 پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی گئی۔