Breaking News

بولیویا کے کلاؤڈ فاریسٹ میں جنگلی بلی کی نئی نسل دریافت

بولیویا کے کلاؤڈ فاریسٹ میں جنگلی بلی کی نئی نسل دریافت
۱ منٹ پہلے

بولیویا کے سرسبز کلاؤڈ فاریسٹ میں جنگلی بلی کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی ہے، جسے ایک صدی سے زائد عرصے بعد پہلی بار کسی زندہ بلی کی نئی نوع کے طور پر باضابطہ شناخت دے کر سائنسی نام بھی دیا گیا ہے۔

 

مقامی آبادی میں اس بلی کو "ٹلکایو" کہا جاتا ہے۔ یہ جنوبی امریکا میں پائی جانے والی ٹائیگر کیٹس کے گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔ محققین کے مطابق ٹلکایو کو بولیویا کے پہاڑی علاقے یُنگاس کے گھنے جنگلات میں دریافت کیا گیا، جہاں زیادہ تر وقت بادل چھائے رہتے ہیں۔

 

تحقیق کے مطابق یہ جنگلی بلی جسامت میں انتہائی چھوٹی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 46 سینٹی میٹر جبکہ وزن صرف 1.4 کلوگرام ہے۔ اس کی کھال ہلکے بھورے رنگ کی ہے، جس پر بے ترتیب شکل کے دھبے موجود ہیں، جبکہ حجم کے اعتبار سے یہ عام گھریلو بلی سے بھی چھوٹی ہے۔

 

محققین نے جینیاتی تحقیق کے ذریعے تصدیق کی کہ ٹلکایو پہلے سے معلوم ٹائیگر کیٹس کی اقسام سے مختلف ایک نئی نوع ہے۔ اس نئی بلی کو سائنسی نام Leopardus tilcayo دیا گیا ہے، جبکہ مقامی نام ٹلکایو کو برقرار رکھا گیا ہے۔

 

نیشنل جیوگرافک ایکسپلورر اور تحقیق کی شریک مصنف پاؤلا نوگالس اسکارنس نے کرنٹ بائیولوجی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا کہ اس نئی نوع کے بارے میں ابھی بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔

 

کیمرہ ٹریپس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ٹلکایو بلی رات کے وقت زیادہ سرگرم رہتی ہے۔ محققین کو اس کے فضلے کے نمونوں میں چھوٹے چوہوں کی باقیات بھی ملی ہیں، جس سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ اس کی خوراک کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

 

تحقیق کے دوران جنوبی امریکا کے مختلف ممالک سے حاصل کیے گئے 38 جنگلی بلیوں کے نمونوں کا جینیاتی تجزیہ کیا گیا، جن میں عجائب گھروں میں محفوظ 8 نمونے بھی شامل تھے۔

 

ڈی این اے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ٹائیگر کیٹس دراصل پانچ مختلف جینیاتی انواع پر مشتمل ہیں۔

 

سائنس دانوں کے مطابق ٹلکایو کا ارتقائی سلسلہ تقریباً 14 لاکھ سال پہلے دوسری ٹائیگر کیٹس سے الگ ہوگیا تھا، جو اسے الگ نوع قرار دینے کے لیے اہم جینیاتی فرق ثابت ہوا۔

 

پاؤلا نوگالس اسکارنس کے مطابق اس بلی کی کھال اور جسمانی خصوصیات پہلے بیان کی گئی ٹائیگر کیٹس سے مختلف تھیں۔ ماضی میں زیادہ تر تفصیلات برازیل میں پائی جانے والی بلیوں کی بنیاد پر مرتب کی گئی تھیں، جس کے باعث بولیویا میں موجود ٹائیگر کیٹ کی شناخت پر مزید تحقیق شروع کی گئی۔

 

محققین کے مطابق اب تک صرف دو زندہ ٹلکایو بلیوں کا براہ راست مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک 10 سالہ نر بلی بولیویا کے سینڈا ویرڈے وائلڈ لائف سینکچری میں موجود ہے، جسے اس سے قبل ایک مقامی خاندان نے اپنے گھر میں رکھا ہوا تھا۔

 

تحقیق میں پیرو کے یُنگاس خطے میں ٹائیگر کیٹ کی ایک اور نئی نوع کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جسے Leopardus tigrinus antisuyo کا نام دیا گیا ہے۔

 

محققین نے اپنی دریافت انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) کے ساتھ بھی شیئر کردی ہے تاکہ ٹائیگر کیٹس کی پانچوں جینیاتی اقسام کے تحفظ کا الگ الگ جائزہ لیا جاسکے۔

 

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یُنگاس کے پہاڑی جنگلات کو جنگلات کی کٹائی، زرعی توسیع، انسانی سرگرمیوں سے لگنے والی آگ اور کان کنی جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

 

ان کے مطابق یہ دریافت اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ دنیا میں اب بھی کئی ایسی انواع موجود ہیں جو سائنسی طور پر دریافت ہونے سے پہلے ہی معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہوسکتی ہیں۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں