پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے بعد مہنگائی کی شرح میں 0.49 فیصد اضافہ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سامنے آنے لگے ہیں، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق 51 ضروری اشیاء میں سے 19 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 9 اشیاء سستی ہوئیں، جبکہ 23 اشیاء کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 7.29 فیصد، پیٹرول کی قیمت میں 6.40 فیصد اور ایل پی جی کی قیمت میں 3.26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی دوران لہسن 1.94 فیصد اور انڈے 1.72 فیصد مہنگے ہوئے، جبکہ چنے کی دال، مسور کی دال، مونگ کی دال، ڈبل روٹی، سرسوں کا تیل اور مٹن کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
دوسری جانب ایک ہفتے کے دوران کیلے کی قیمت میں 6.17 فیصد، ٹماٹر 5.66 فیصد، پیاز 4.57 فیصد اور مرغی کی قیمت میں 2.33 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
سالانہ بنیادوں پر جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ایل پی جی 60.42 فیصد، ڈیزل 54.21 فیصد جبکہ پیٹرول 48 فیصد مہنگا ہوا۔
رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے طبقے کے لیے بجلی کے نرخوں میں 33.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مرچ پاؤڈر کی قیمت میں 16.37 فیصد، مٹن میں 15.86 فیصد اور گائے کے گوشت میں 12.88 فیصد اضافہ ہوا۔
ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے میں آٹا 33.27 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ کیلے، ڈبل روٹی اور تازہ دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب سالانہ بنیادوں پر آلو کی قیمت میں 35.31 فیصد، چینی میں 20.95 فیصد، انڈوں میں 19.31 فیصد اور مرغی کی قیمت میں 15.26 فیصد کمی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق نمک، چنے کی دال، مسور کی دال اور مونگ کی دال بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں سستی ریکارڈ کی گئی۔