Breaking News

ایشمل قتل کیخلاف احتجاج میں شدت،کالام روڈ بند،ملزم محفوظ مقام پر منتقل،اہلیہ سے تفتیش جاری

ایشمل قتل کیخلاف احتجاج میں شدت،کالام روڈ بند،ملزم محفوظ مقام پر منتقل،اہلیہ سے تفتیش جاری
۱ منٹ پہلے

سوات کے علاقے مدین میں 9 سالہ یتیم بچی ایشمل بی بی کے قتل کیس کے خلاف عوامی احتجاج میں شدت آگئی ہے۔ جمعہ 18 ستمبر کو نمازِ جمعہ کے بعد مدین سمیت سوات کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے، جہاں شہریوں نے ملزم کو سخت سزا دینے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

مدین میں مرکزی دھرنا ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا، جہاں مقامی افراد، عمائدین، خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے سور پل کے مقام پر دھرنا دیتے ہوئے کالام روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جس کے باعث بالائی سوات جانے والی ٹریفک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

 

احتجاج میں شریک خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور مطالبہ کیا کہ کیس کو فوری طور پر منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ انصاف کے حصول تک اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

 

 

ایم پی اے کی رہائش گاہ کے باہر بھی احتجاج

 


دھرنے کے دوران بعض مظاہرین نے مقامی ایم پی اے اور صوبائی وزیر میاں شرافت علی خان کی رہائش گاہ اور حجرے کے باہر بھی احتجاج کیا۔

 

مظاہرین نے حکومت اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ سانحے پر فوری اقدامات کیے جائیں، کیس کی شفاف تحقیقات مکمل کی جائیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

 

 

مینگورہ میں تاجروں اور سول سوسائٹی کا مظاہرہ

 


دوسری جانب سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں بھی آل ٹریڈرز فیڈریشن اور سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

 

تاجروں اور شہری رہنماؤں نے حکومت، پولیس اور عدالتی اداروں کو ایک ماہ کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کیس کا تیز رفتار ٹرائل مکمل کرکے ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

 

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ وقت میں پیش رفت نہ ہوئی تو سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

 

 

سوات بار کونسل کا اہم اعلان

 


سوات بار کونسل نے بھی اعلان کیا ہے کہ کیس میں گرفتار ملزم کی قانونی معاونت یا ضمانت کے لیے سوات کا کوئی وکیل پیش نہیں ہوگا۔

 

وکلا کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ کیس شفاف انداز میں آگے بڑھے اور اسے قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔

 

 

ملزم کی اہلیہ سے تفتیش، فارنزک شواہد کا جائزہ جاری

 


دوسری جانب پولیس نے مرکزی ملزم سلطان محمد کی اہلیہ سے بھی تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

 

تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کی اہلیہ سے واقعے سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں اور مختلف شواہد کی روشنی میں اس کے ممکنہ کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کی اہلیہ کو خواتین پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے، جہاں خواتین افسران اس سے تفتیش کر رہی ہیں۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش حاصل ہونے والی معلومات، فون ریکارڈ اور دیگر فارنزک شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

 

ڈی این اے رپورٹ کا انتظار، ملزم محفوظ مقام پر منتقل

 


خصوصی انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) ملزم اور دیگر متعلقہ افراد کے بیانات کو ڈی این اے اور دیگر فارنزک شواہد کے ساتھ ملا کر تحقیقات مکمل کر رہی ہے تاکہ عدالت میں مضبوط مقدمہ پیش کیا جا سکے۔

 

پولیس کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مرکزی ملزم سلطان محمد کو سوات جیل سے ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ لاہور لیبارٹری سے ڈی این اے رپورٹ کا انتظار جاری ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں