Breaking News

اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دینگے،گولی کا جواب گولی سے ہوگا،محسن نقوی

اسلام آباد پر دھاوا بولنے  کی اجازت نہیں دینگے،گولی کا جواب گولی سے ہوگا،محسن نقوی
۱ منٹ پہلے

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کسی کو بھی وفاقی دارالحکومت پر دھاوا بولنے یا غیر قانونی اجتماع کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔گولی کا جواب گولی سے ہوگا۔

 

اسلام آباد میں طلال چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ چکا ہے، جس کے بعد شہر میں کسی بھی غیر قانونی اجتماع یا یلغار کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

 

وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک طرف سیکیورٹی فورسز شہداء کے جنازے اٹھا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب دھرنوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کو واضح ہدایات دے دی گئی ہیں کہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والے اقدامات کو ہر ممکن طریقے سے روکا جائے گا۔

 

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ان کے مطابق اگر احتجاج کرنا ہے تو لوگ اپنے علاقوں اور شہروں میں کریں، تاہم سیاسی جلسوں اور جتھوں کی شکل میں کسی شہر پر چڑھائی میں فرق ہوتا ہے۔

 

وفاقی وزیر داخلہ نے خبردار کیا کہ اگر کسی ناخوشگوار واقعے میں کوئی جانی نقصان ہوا تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی جو ایسے اجتماعات کو منظم کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں سے اپیل کی کہ اس صورتحال سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا بلکہ نقصان ہی ہوگا۔ محسن نقوی نے کہا کہ حکومت ماضی کی طرح بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ کسی شہر کو بند کرنا یا کسی صوبے سے وفاقی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کرنا قابل قبول نہیں ہوگا، کیونکہ ملک کو پہلے ہی دہشت گردی سمیت کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور امن و امان برقرار رکھنا ضروری ہے۔

 

محسن نقوی نے سیاسی قیادت پر زور دیا کہ وہ احتجاج کے لیے اپنے شہروں میں طے شدہ طریقہ کار اختیار کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے اسلام آباد یا عام شہریوں کی زندگی متاثر ہو۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں