پیٹرول ریلیف سکیم میں تبدیلی، ایک بار میں 5 لیٹر سے کم پیٹرول خریدنے کی اجازت
وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم میں اہم تبدیلیاں کر دی گئی ہیں، جس کے تحت موٹرسائیکل، رکشوں اور گاڑیوں کے لیے ایک ہی بار میں کم از کم 5 لیٹر ایندھن خریدنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
نئے فیصلے کے مطابق مستحق افراد کو ہفتہ وار 500 روپے مالیت کا ٹوکن فراہم کیا جائے گا، جس کے ذریعے وہ اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی مقدار میں پیٹرول خرید سکیں گے۔
قومی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موٹرسائیکل اور 3 پہیوں والی گاڑیوں یعنی رکشوں کے لیے اہلیت کی حد 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کر دی جائے گی، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے موجودہ طریقہ کار برقرار رہے گا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو ہر 10 روز بعد 10 لیٹر پیٹرول کا ایک ٹوکن جاری کیا جائے گا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر ایسے صارفین کو 3 ٹوکن فراہم کیے جائیں گے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ 500 روپے کے ٹوکن کی مکمل رقم صارف کو ریلیف کی صورت میں منتقل کی جائے گی اور پیٹرول پمپس کسی قسم کی کٹوتی یا سروس چارج وصول نہیں کر سکیں گے۔
اجلاس میں رجسٹریشن، ٹوکن کے اجرا اور پیٹرول پمپس کو ادائیگیوں کے عمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی گئی کہ ادائیگیوں سے متعلق رپورٹس روزانہ صبح 11 بجے اور شام 7 بجے فراہم کی جائیں۔
کمیٹی نے مسترد ہونے والی ادائیگیوں کی وجوہات فوری طور پر معلوم کرکے مسائل حل کرنے کی ہدایت بھی کی۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور دور دراز علاقوں میں کم یا بغیر انٹرنیٹ والے پیٹرول پمپس کے لیے متبادل انتظامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے حکام کو ہدایت کی کہ کسی بھی اہل مستحق شخص کو جغرافیائی مسائل کے باعث اسکیم سے محروم نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کا مقصد کم آمدن والے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔