خودکشی یا قتل؟ کراچی میں فلیٹ سے ڈاکٹر، اہلیہ اور تین بچیوں کی لاشیں برآمد
کراچی کے علاقے سپر ہائی وے، سکیم 33 کے قریب احسن آباد میں ایک فلیٹ سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد علاقے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعہ لاکھانی ٹوئن ٹاور کی ساتویں منزل پر پیش آیا، جہاں ڈاکٹر عمر، ان کی اہلیہ مہوش اور تین کمسن بیٹیوں کی لاشیں ملیں۔
پولیس کے مطابق فلیٹ کا دروازہ اندر سے بند تھا جبکہ گھر میں کسی قسم کی توڑ پھوڑ یا چوری کے شواہد نہیں ملے۔ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر پولیس نے واقعے کو مبینہ اجتماعی خودکشی قرار دے کر تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم موت کی حتمی وجہ کیمیائی اور ٹاکسیکولوجی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
لاشیں کئی روز بعد برآمد ہوئیں
پولیس کو اس وقت اطلاع ملی جب فلیٹ سے شدید تعفن اٹھنے پر پڑوسیوں کو تشویش ہوئی۔ پولیس موقع پر پہنچی تو فلیٹ کا مرکزی دروازہ اندر سے لاک تھا، جسے کھول کر اہلکار اندر داخل ہوئے۔
اندر ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کی لاشیں ملیں، جو بظاہر کئی روز پرانی تھیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق لاشوں میں 45 سالہ ڈاکٹر عمر، ان کی 35 سالہ اہلیہ مہوش، 13 سالہ زینب اور دو کمسن بیٹیاں شامل ہیں۔
ڈاکٹر عمر کے بارے میں اہم معلومات سامنے آگئیں
پولیس اور علاقے کے رہائشیوں کے مطابق ڈاکٹر عمر جگر کے کینسر کے آخری مرحلے میں مبتلا تھے اور زیر علاج تھے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ شدید طبی مشکلات کے ساتھ ساتھ مالی اور ذہنی دباؤ کا بھی سامنا کر رہے تھے۔
ڈاکٹر عمر پہلے اپنا کلینک چلاتے تھے، تاہم بعد میں انہوں نے احسن آباد سٹی ایسٹ ہسپتال میں ملازمت اختیار کرلی تھی۔ واقعے سے تقریباً ایک ماہ قبل انہوں نے ہسپتال کی ملازمت بھی چھوڑ دی تھی اور انتظامیہ کو بتایا تھا کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ پنجاب منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انہیں آخری مرتبہ 17 ستمبر کو گھر واپس آتے دیکھا گیا تھا۔
پولیس کو تشدد یا چوری کے شواہد نہیں ملے
کراچی پولیس کی سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق پانچوں لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ ابتدائی طبی معائنے میں لاشوں پر بظاہر گولی، چاقو یا جسمانی تشدد کے نشانات نہیں ملے۔
پولیس کے مطابق فلیٹ میں موجود سامان بھی اپنی جگہ پر تھا اور چوری یا ڈکیتی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ یہی صورتحال پولیس کو واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے کیمیکل رپورٹ کا انتظار
پولیس نے لاشوں سے حاصل کیے گئے نمونے کیمیکل لیبارٹری بھجوا دیے ہیں۔ ٹاکسیکولوجی رپورٹ سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ پانچوں افراد کی موت کی اصل وجہ کیا تھی۔
پولیس کا ایک ابتدائی شبہ یہ ہے کہ خاندان کو کسی زہریلی چیز کے ذریعے نقصان پہنچایا گیا ہو، تاہم یہ صرف تفتیشی مفروضہ ہے اور حتمی نتیجہ فارنزک اور کیمیائی رپورٹس کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
لواحقین اور خاندان کے پس منظر کی بھی تحقیقات
کر رہی ہےحکام کے مطابق تاحال مقتولین کے کسی قریبی رشتہ دار نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔ پولیس خاندان کے آبائی علاقے اور دیگر رشتہ داروں کا سراغ لگانے کے لیے موبائل ڈیٹا اور جیو فینسنگ سمیت مختلف ذرائع استعمال کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس
واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی سندھ سے تفصیلی اور شفاف تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
پولیس کی جانب سے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ حتمی طور پر یہ تعین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ خاندان کی اموات کن حالات میں ہوئیں اور اس واقعے کے پیچھے اصل وجہ کیا تھی۔
کیمیائی رپورٹ اور مزید شواہد سامنے آنے کے بعد ہی کیس کی سمت اور موت کی حتمی وجہ واضح ہوسکے گی۔