World

نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کرنے پر امریکا کی عالمی عدالت پر سخت پابندیوں کی تیاری

نیتن یاہو کے وارنٹ جاری کرنے پر امریکا کی عالمی عدالت پر سخت پابندیوں کی تیاری
۷ گھنٹے پہلے

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات سے متعلق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے پر عالمی فوجداری عدالت کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے، جس کے تحت ہیگ میں قائم اس عالمی ادارے کو براہِ راست امریکی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ پوری عالمی فوجداری عدالت کو پابندیوں کا ہدف بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اگر یہ پابندیاں نافذ ہوئیں تو امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو خصوصی لائسنس کے بغیر عدالت کو رقم، سامان یا خدمات فراہم کرنے سے روک دیا جائے گا، جس سے ادارے کے روزمرہ امور اور مالی معاملات شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 

امریکا اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی تھی جب نومبر 2024 میں آئی سی سی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ امریکا اور اسرائیل دونوں عالمی فوجداری عدالت کے رکن نہیں ہیں اور اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتے۔

 

تازہ امریکی اقدام کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار پابندیوں کا ہدف عدالت کے مخصوص ججز یا پراسیکیوٹرز نہیں بلکہ پورا ادارہ ہوگا۔ امریکی حکومت اس سے قبل آئی سی سی کے متعدد ججز اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کر چکی ہے، تاہم مکمل ادارے کو نشانہ بنانے کا قدم اس تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دے گا۔

 

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے ایسے ممالک کے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرکے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جنہوں نے عدالت کے رکن نہ ہونے کے باعث اس کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔

 

رواں سال جولائی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آئی سی سی کو مزید تنہا کرنے کی مہم کا اعلان کرتے ہوئے مختلف ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ عدالت سے علیحدگی اختیار کریں۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ فروری میں جاری صدارتی حکم کے تحت عدالت سے وابستہ متعدد عہدیداروں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔

 

 

ممکنہ پابندیوں کے اثرات 

 

ممکنہ نئی پابندیوں کے عملی اثرات بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اگر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پورے ادارے پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو امریکی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے خصوصی اجازت کے بغیر آئی سی سی کے ساتھ مالی لین دین، سامان کی فراہمی یا خدمات فراہم کرنا ممنوع ہوگا۔ امریکی مالیاتی نظام تک رسائی پر انحصار کرنے والے بینک بھی ایسی پابندیوں کے بعد عدالت کے ساتھ لین دین سے گریز کرسکتے ہیں۔

 

عالمی فوجداری عدالت کے حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ادارے کو براہِ راست پابندیوں کا سامنا ہوا تو اس کی روزمرہ سرگرمیوں میں شدید رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات، انشورنس، تحقیقاتی ٹیموں کی بھرتی، مالیاتی لین دین اور امریکی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی جیسے معاملات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

 

اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی سطح پر جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ عدالت کے لیے مختلف ممالک اور اداروں کے ساتھ مالی اور انتظامی معاملات جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

 

 

عالمی فوجداری عدالت کیا ہے؟

 

 

عالمی فوجداری عدالت 2002 میں قائم ہوئی تھی اور اسے جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات اور مقدمات کے لیے بنایا گیا تھا۔ امریکا اس عدالت کا رکن نہیں ہے۔

 

دوسری جانب حالیہ عرصے میں چاڈ، وینزویلا، برکینا فاسو، مالی اور نائجر سمیت بعض ممالک کی جانب سے عدالت سے علیحدگی کے اقدامات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ امریکا میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آئی سی سی سے متعلق پابندیوں کو قانونی چیلنجز کا سامنا بھی کرایا ہے۔

 

یوں ٹرمپ انتظامیہ اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان جاری تنازع اب صرف مخصوص عہدیداروں تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے عالمی ادارے کو امریکی پابندیوں کی زد میں لانے کی تیاری تک پہنچ چکا ہے۔

مزید خبروں اور دلچسپ ویڈیوز کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہوں